سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(22)حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حضرت عزرائیل کو طمانچہ مارنا

  • 15848
  • تاریخ اشاعت : 2016-05-04
  • مشاہدات : 1426

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک واعظ نے بحوالہ بخاری شریف ، دوران وعظ میں یہ ذکر کیا کہ جب عزرائیل ( علیہ السلام ) فرشتہ حضرت موسی علیہ السلام کی روح قبض کرنے آئے توموسی علیہ السلام نے ان کےایک طمانچہ مار کر آنکھ نکال دی ۔کیا یہ حدیث صحیح ہے اور بخاری شریف کےکس باب میں ہے ؟ اگر حدیث صحیح ہےتو ایسا کرنا کیا نبی کی شان کےخلاف نہیں ہے۔ ؟؟

   محمد الدین خظیب جامع مسجد ابدالیان پوران ضلع گجرات ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث مسئول عنہ بخاری شریف 4؍ 130 میں باین الفاظ  مروی ہے:’’  عن ابي هريرة ، قال : أرسل ملك الموت الي موسي عليه السلام ، فلما جاء صكه ، فرجع إلي ربه ، فقال : أرسلتني إلي عبدلا يريد الموت ، فردالله عليه عنيه ، فقال : أرجع فقل له يضع يده علي متن ثور ، فله بكل ماغطت به يده بكل شعرة سنة ، قال : اي رب ثم ماذا ؟قال : ثم الموت ، قال : فالأن ،، الحديث  . ارویہ حدیث مسلم شریف 4؍ 842 اورنسائی شریف میں بھی مروی ہے ۔ملاحدہ اورنیچری اس حدیث کونہیں مانتے کہ کسی پیغمپر کی شان سےبعید کہ وہ فرشتہ اجل کی بلا قصور ماردے یہاں تک کہ اس کی آنکھ پھوٹ جاوے۔ نیچر یوں کا دستور ہےکہ جوحدیث ان کے فہم وعقل سےبالا ہوتی ہے اس کا انکار کردیتے ہیں ۔اور اگر قرآن کاکوئی مضمون ایسا  ہوتواس کی مضخکہ خیز تاویل کرتےہیں جو در حقیقت معنوی تحریف ہوتی ہے۔ایسے سطحی النظراور یے باک لوگوں سے یہ پوچھنا بےمحل نہیں ہوگا کہ اگر یہ حدیث خلاف عقل ہےتوکیا نبی کا غصہ  میں بے قابوہوکر بڑے بھائی کےسر اور داڑھی کےبال پکڑ کر گھسیٹنے یا توچنے کی کوشش کرنا قرین عقل ہے ۔یہ جہلا اس آیت کا کیا جواب دیں گے ’’ قال ابن امّ الا تأخذ بلحیتی ولا برأسی ،، ( طه : 94 ) امام ابن خزیمہ اور ابن قتیبہ وغیرہ نےاس جاخلانہ اعتراض کا مفصل جواب دیا ہے ۔ملاحظہ ہوعینی شرح  بخاری  15؍ 305 اورنووی شرح صحیح مسلم 15؍ 130۔   (محدث دہلی ج : ش : رجب 1366 ھ جون 1947ء)

٭(1) سماع موتی کےتردید میں امام ابوحنیفہ کی طرف رویت جوکتاب ’’غرائب فی تحقیق المذاھب ،، کےحوالہ سے پیش کی جاتی ہے۔اس کی تحقیق وتلاش کےلیے آپ کا کارڈ ملنے کےبعد میں شبلی  منزل اعظم گڑھ گیا۔مگر افسوس ہےکہ کتاب مذکوریعنی ،، میں سورہ نحل اورسورہ فاطر کی سماع موتی والی آیات کی تفسیر میں مذکورہ روایت کےذکر  کرنے کاموقع تھا ، لیکن وہاں نہیں ملی ۔تفسیر نیشاپوری مشہور تفسیر ہے جو تفسیر ابن جریر کےحاشیہ پرمطبوع ہے۔نہ معلوم فیاض حسین صاحب نے ’’ موضح القرآن ،، کاحوالہ کیوں کردیا ۔اسی طرح قرآن کےجن بعض قدیم حواشی میں اس واقعہ کےلیے ’’تفسیر نیشاپوری ،، کا جو حوالہ دیا گیا ہےوہ کیوں کردیا لیا ؟ ہمارے یہاں مولانا جونا گڑھی کی کتاب ’’ ریارت قبور ،، اورماہنامہ ’’ الحق ،، کاشمارہ بابت سماع موتی اورفیاض حسین صاحب کی کتاب ’’مسلمان اورقبرپرستی ،،موجود نہیں  ہے۔بہرحال کتاب ’’غرئب فی تحقیق المذاھب ،، کا باوجود تتبع اورتلاش کےکچھ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کامصنف کون ہے؟ اور وہ کب لکھی گئی ہے؟ اس درمیان میں اگر آپ کوپتہ چل گیا ہویا آئندہ جب بھی اس کا پتہ چل جائے آپ اس سےمجھے ضرور مطلع کریں گے ۔’’ کشف الظنون ،، کا  ذیل ترکی سےشائع ہوچکا ہے۔شبلی منزل میں وہ موجود نہیں ہےممکن ہےمسلم یونیورسٹی کےکتب خانہ میں موجود ہو۔آپ تکلیف کرکے ا س کی وہاں تحقیق کرلیں ۔ممکن ہےاس میں کتاب ’’غرائب فی تحقیق المذاہب ،، کا ذکر کیا ہو۔آپ نےاس کتاب کےسلسلے میں ’’ کتاب الحافظ ،، مطبوعہ عثمانیہ حیدر آباد کا تذکرہ کیا ہے۔اس سے پہلے میں نے اس نام کی کوئی کتاب نہ دیکھی ہے۔نہ سنی ہے۔امید ہےاس موضوع اورمصنف وغیرہ سےمتعلق ضروری حالات وکوائف سےمطلع کرنے کی تکلیف گوارہ کریں گے ۔

٭حدیث :’’ لا تشدالرجال الا الی ثلثة مساجد ،، اوراحادیث سفر برائے زیارت قبر نبوی اور فضیلت زیارت قبر نبوی سےمتعلق مفصل بحث امام ابن تیمیہ کی کتاب ’’التوسل الوسئلة ،، اور ’’ الصارم المنکی فی الرد علی السبکی ،، للشیخ عبدالہادی اورمولانا محمد بشیر صاحب سہسوانی کی کتاب ’’ صیانة الانسان عن وسوسة الشیخ دحلان ،، میں موجود ہے۔کچھ مختصر بحث ’’مرعاۃ ( 1؍ 131؍133؍7؍379؍391) اور تحقۃ الاحوزی میں بھی ہے۔ان کتابوں کوبغور ملاحظہ کریں ۔انشاءاللہ آپ کوشرح صدر ہوجائے گا۔

  عبیداللہ رحمانی  29؍ 2؍ 1399ھ   ( مکاتیب شیخ رحمانی بنام مولانا محمدامین اثری ص: 104 ؍ 105)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 63

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ