(256) نماز میں سست شوہر کو باجماعت نماز کی ادائیگی کی تلقین باعث گناہ تو نہیں
15774
تاریخ اشاعت : 2024-05-26
مشاہدات : 1158
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب عورت اپنے خاوند کو مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی میں سستی کرنے پر نصیحت کرے یا پھر اسے غصے ہوتو کیا وہ اس بنا پر گناہگار ہوگی اس لیے کہ خاوند کا حق زیادہ ہے؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!جب خاوند کسی حرام کردہ فعل کاارتکاب کرے مثلاً باجماعت نمازکی ادائیگی میں سستی ،یا نشہ کرنا یا پھر رات بھر جاگنا تو اس پر عورت اپنے خاوند کو نصیحت کرے گی تو گناہگار نہیں ہوگی بلکہ عنداللہ ماجور ہوگی۔البتہ اسے چاہیے کہ نصیحت کرتے ہوئے نرم رویہ اپنائے اور اچھا اسلوب اختیار کرے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کی بات زیادہ قبول اور فائدہ مند ہوگی۔(ا ن شاء اللہ)(شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ )