سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(199) کیا نکاح کے وقت لکھت پڑھت ضروری ہے؟

  • 15717
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-25
  • مشاہدات : 277

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا زبانی طور پر بھی عقد نکاح ہو سکتا ہے یا کہ لکھنا ضروری ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا زبانی طور پر بھی عقد نکاح ہو سکتا ہے یا کہ لکھنا ضروری ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
لوگوں میں ہونے والے معاملات اور معاہدات لکھنا تو صرف توثیق اور تصدیق کا ایک وسیلہ ہیں نہ کہ عقد نکاح ہونے کی شرط یعنی لکھنے کے بغیر بھی یہ صحیح ہے عقد نکاح لڑکی کے ولی کے ایجاب یعنی میں نے اپنی بیٹی کی تجھ سے شادی کی اور خاوند کی جانب سے اسے قبول کرنے کو نکاح کہتے ہیں اور اس میں لکھنے کی کوئی شرط نہیں لیکن اگر لکھ لیا جائے تو یہ ایک مستحسن اقدام ہے تاکہ اس نکاح کی تصدیق و توثیق ہو سکے اور خاص کر ہمارے اس دور میں اللہ تعالیٰ ہی مددو تعاون کرنے والا ہے۔(شیخ محمد المنجد )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص266

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ