سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(186) کیا گھریلو سامان بیوی کے مہر سے بنایا جائے گا؟

  • 15704
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-25
  • مشاہدات : 356

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب خاوند بیوی کو مہر ادا کردے تو کیا اس یہ حق حاصل ہے کہ وہ گھریلو سامان کی قیمت مہرسے طلب کرے؟ہمارے ملک میں گھریلو سامان عورت کے ذمہ ڈالا جاتاہے تو کیا بیوی پر واجب ہے کہ وہ اپنے مہر سے گھریلو سامان کی قیمت ادا کرے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مہر خاص بیوی کا حق ہے وہ جہاں اور جس طرح چاہے اسے خرچ کرے۔اس پر گھر کی تیاری اور سامان خریدنا واجب نہیں۔کیونکہ شرعی مصادر میں اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی کہ وہ شادی کے لیے گھر تیار کرے۔اسی طرح اس کا بھی کہیں ثبوت نہیں ملتا کہ لڑکی کے والد پر گھر کاسامان تیار کرنا واجب ہے۔

اس مسئلے میں کسی کو بھی حق نہیں کہ وہ لڑکی اور اس کے والد کو اس پر مجبور کرے۔ہاں جب وہ کوئی گھریلو سامان بنائے تو اس کی طرف سے صدقہ ہوگا۔گھر کا سامان اور اس کی تعمیر  شوہر پر واجب ہے اسی پر بیوی کے لیے  رہائش کا انتظام کرنا اور اس میں ہر قسم کی ضرورت مثلاً برتن،بستر،اور قالین وغیرہ جیسی اشیاء مہیا کرنا واجب ہے۔کیونکہ بیوی کے نان نفقہ اور رہائش کا ذمہ  دار خاوند ہی ہے۔(شیخ محمد المنجد)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص257

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ