سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(185) بطور مہر ایک ماہ سسر کا کام کرنا

  • 15703
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-25
  • مشاہدات : 343

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بلاشبہ میں ایک فقیر آدمی میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ جو نکاح کی قیمت کو پہنچتے ہوں۔ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا میرے پاس ایک بیٹی ہے مگر اس کامہریہ ہوگا کہ تم میرےپاس ایک ماہ کام کرواور اس کی بیٹی بھی اس پر راضی ہے تو کیا اسلام میں یہ جائز ہے اور کیا یہ نکاح درست ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ذکر کیاگیا ہے تو پھر یہ جائز ہے کہ عورت کامہر اس کے والد کے پاس ایک ماہ کام مقرر کیاجائے اور نکاح بھی صحیح ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص257

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ