سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(181) دوریال کا جواز

  • 15699
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-25
  • مشاہدات : 360

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا یہ صحیح ہے کہ کوئی آدمی اپنی بیٹی کی شادی دو ریال مہرکے عوض کردے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مہر وہ عوض ہے جو نکاح میں مقرر کیاجاتاہے اور سنت وہ مہر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی بیویوں کو دیاتھا اور وہ پانچ سو درہم تھا۔لیکن اگر اس سے زیادہ یاکم بھی دیا جائے تو کوئی حرج نہیں اور ہر وہ چیز جو بطور قیمت یابطور اجرت صحیح ہو وہ بطورمہر بھی صحیح ہوگی خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو،کیونکہ حضرت جابر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  کی مرفوعاً حدیث ہے کہ:

"لو أن رجلا أعطى امرأة صداقا ملء يديه طعاما كانت له حلالا"

"اگر آدمی عورت کو بطور مہر ہاتھ بھر کر غلہ دے دے تو وہ اس کے لیے حلال ہوجائے گی۔"

اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ قبیلے کی ایک عورت نے دو جوتیوں کے عوض شادی کرلی تھی۔( ضعیف اروالغلیل(1926) ضعیف ترمذی ،ترمذی(1113) کتاب النکاح باب ماجاء فی مھور النساء المشکاۃ(3206) (شیخ محمدآل شیخ)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص254

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ