سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(179) کیا مہر کی کوئی حد معین ہے؟

  • 15697
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-25
  • مشاہدات : 350

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا عورت کے مہر کی کوئی حد معین ہے اور حدیث شریف میں مہر کے آسان ہونے کا کیامقصد ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کے مہر کے لیے کوئی حد معین نہیں لہذا ہروہ چیز جس کامرد مالک ہو اسے عورت کا مہرمقرر کرناجائز ہے خواہ وہ کم مقدار میں ہو زیادہ اور   حضر ت ابو ہریرۃ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  کی جس حدیث میں ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً."

"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔"( مسند احمد(6/82۔145)ابن ابی شیبہ(4/189) حاکم(2/178) بزار فی کشف الاستار (2/158) مسند شھاب(1/105)

اس معنی کی ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں:

"خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ "

"بہترین نکاح وہ ہے جو(مہر کے لحاظ سے) آسان ہو۔"( صحیح ۔صحیح ابوداود(1859) کتاب النکاح باب  فیمن  تزوج ولم یسم صداقا حتی مات،ارواء الغلیل (1924) ابو داود(2117) السلسلۃ الصحیحہ(1842) صحیح الجامع الصغیر(3300)

اسے  مہر کو آسان (یعنی کم) کرنے کی ترغیب دلانا مقصود ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص251

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ