سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(166) بے نماز منگیتر سے شادی کرنا کیسا ہے؟

  • 15684
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-20
  • مشاہدات : 861

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے علم کے مطابق میری منگنی ایک بااخلاق نوجوان سے طے پائی اس نے مجھے یہ بتایا کہ وہ نماز نہیں چھوڑتا لیکن منگنی کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ نہ صرف نماز چھوڑتا ہے۔بلکہ روزے بھی چھوڑتا ہے اور سود پر بھی رقم رکھتا ہے۔لیکن وہ مجھے یہ کہتا ہے کہ میں نے آ پ سے منگنی اس لیے کی ہے کہ  آپ میری برائیاں ختم کرنے پر میری مدد کریں گی اس لیے کہ آپ دین ر عمل کرتی ہو اور لباس بھی شرعی پہنتی ہو۔میرا سوال یہ ہے کہ میں کس  طرح اس کی دین کے معاملے میں مدد کرسکتی ہوں؟

اور کیا یہ علم ہوتے ہوئے کہ بے نماز کافر ہے میرا اس سے شادی کرنا کوئی  گناہ تو نہیں؟ میں نے اسے چھوڑنے کا بھی سوچا لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ قابل نفرت چیز طلا ق ہے(اس لیے کچھ نہ کرسکی)۔میری منگنی کو اب ایک برس ہوچکا ہے اور میں اس میں کچھ بھی تبدیلی نہیں لاسکی اور نہ ہی میں اسے چھوڑ سکتی ہوں۔میرے خیال میں میں اس کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتی۔وہ ایک اچھا انسان ہے لیکن مجھے پتہ نہیں چل رہا کہ میں کیا کروں آ پ میرا تعاون کریں اللہ تعالیٰ آپ کو اچھی جزادے۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بے نماز جوکبھی بھی نماز نہیں پڑھتا کافر ہے جیسا کہ آپ نے بھی ذکر کیا ہے خواہ وہ نماز کا انکاری ہویا نماز میں سستی کرتا ہو۔اس کے بارے میں علمائے کرام کا صحیح قول یہ ہے کہ وہ کافر ہے بلکہ کچھ علمائے کرام تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے ایک فرض نماز بھی وقت کے اندر اندر(بغیر کسی عذر کے) ادا نہ کی اور وقت ختم ہوگیا تو وہ کافر ہے۔

مستقل فتویٰ کمیٹی کا اس عورت کے بارے میں  جو نماز میں تاخیر کرتی ہے وقت پر نماز نہیں پڑھتی اور اپنی چھوٹی بڑی بیٹیوں کو بھی اس پر ابھارتی ہے یہ فتویٰ ہے:

جب اس عور ت کی حالت ایسی ہو جیسی سوال میں بیان کی گئی ہے تو وہ مرتد ہے اور ا پنے خاوند کی بیٹیوں کو بھی خراب کررہی ہے اسے توبہ کرنے کا کہا جائے اگر وہ توبہ کرلے اور اپنے اعمال صحیح کرلے تو الحمدللہ اور اگر وہ اپنے اس فعل پر مصر رہے تو اس کا معاملہ قاضی تک لے جایا جائے گا  تاکہ وہ اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان علیحدگی کرادے اور اس پر شرعی حد(یعنی قتل) جاری کرے،کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ    کی حدیث میں ہے:

"مَنْ بدَّل دينهُ فاقتلوهُ"

"جو اپنا دین بدلے اسے قتل کردو۔"( صحیح ۔صحیح ابو داود۔ابوداود(4351)کتاب الحدود باب الحکم فیمن ارتد ،ابن ماجہ (2535) کتاب الحدود باب المرتد عن دینہ نسائی(4059)

یہ عورت اگر نماز کو اس کے وقت سے موخر کرتی ہے مثلاً عصر کو غروب آفتاب تک یا پھر فجر طلوع آفتاب تک کیونکہ نماز کو اس کے وقت سے بلاعذر موخر کرنا اسے ترک کرنا ہی ہے۔( فتاوی الجنۃ الدائمۃ للحوث العلمۃ الافتاء(306)

اس بنا پرآپ کے لیے اس نوجوان سے شادی کرنا حلال نہیں خواہ وہ کتنا بھی بااخلاق کیوں نہ ہواور آ پ یہ بتائیں کہ نماز نہ پڑھنے اور سودی کاروبار کرنے کے بعد کون سی اچھائی رہ جاتی ہے؟اور جب وہ اس سے توبہ نہ کرے اور اس پر اصلاح واستقامت کی علامات ظاہر نہ ہوں تو آپ منگنی ختم کردیں اور اگر آپ  دونوں کا عقد نکاح ہوچکاہے تو پھر آپ اسے بتادیں کہ اس کے بے نماز ہونے کی وجہ سے وہ کافر ہے اور مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں اس لیے یہ عقد نکاح صحیح نہیں۔اگرتو وہ توبہ کرلے اور نماز کی پابندی کرنے لگے تو پھر وہ عقد نکاح کی تجدید کرے کیونکہ پہلا نکاح صحیح نہیں تھا۔

آپ اس کی باتوں اور وعدوں پر نہ رہیں اور کسی دھوکے میں نہ آئیں کیونکہ جو شخص منگنی اور عقد کی مدت کے دوران وفاداری نہیں کرتا وہ اس کے بعد کیا وفاداری کرے گا۔

آپ کا یہ کہناکہ  آپ اسے چھوڑ نہیں سکتیں یہ شیطان کی ملمع سازی اور دھوکہ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ اسے چھوڑنے کی طاقت رکھتی ہیں۔اس کے لیے آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے  پاس ہے اس کی  رغبت اورحرام میں پڑنے سے خوف کریں کیونکہ مسلمان عورت کسی بھی حال میں کافر کی بیوی نہیں بن سکتی۔

آپ کے سوال سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ آپ کے درمیان عقد نکاح ہوچکا ہے کیونکہ آ پ نے یہ کہا  ہے کہ"اللہ تعالیٰ کے ہاں حلال اشیاء سے سب سے زیادہ قابل نفرت چیز طلاق ہے"اور آپ کے کلام کے آخر میں صرف منگنی کی صراحت ملتی ہے۔

ہم یہ گزارش کریں گے کہ اگر تو آپ کے درمیان عقد نکاح نہیں ہوا تو  پھر وہ اپنی منگیتر کے لیے اجنبی ہوگا،اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے خلوت کرے یا اسے دیکھے اسی طرح منگیتر کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے نرم لہجے میں بات کرے اور بلاضرورت لمبی بات چیت کرے صرف یہ ہے کہ منگنی کے وقت وہ منگیتر سے صرف اتنا کچھ دیکھ سکتا ہے جو اسے نکاح میں ر غبت پیدا کرے لیکن اس میں بھی خلوت نہیں ہونی چاہیے۔

ہم آ پ کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ آپ اپنے ظاہر وباطن میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آ پ کو نیک اور صالح خاوند عطا فرمائے۔(شیخ محمدالمنجد)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص237

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ