سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(161) میرے منگیتر کا ماضی بہت برا گزرا ہے کیا میں اس سے شادی کر لوں؟

  • 15679
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1058

سوال

(161) میرے منگیتر کا ماضی بہت برا گزرا ہے کیا میں اس سے شادی کر لوں؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سب سے پہلے تو میں لوگوں کو قیمتی معلومات فراہم کرنے  پر آپ کی قدر کرتی ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو اس کار خیر کی جزائے خیر عطا فرمائے۔مجھے یہ معلوم ہے کہ ہر سوال کا جواب فی الفور نہیں مل سکتا لیکن اس کے باوجود میں نے اس موضوع کو بہت تلاش کیا ہے مگر مجھے اپنے سوال کاجواب ابھی تک نہیں ملا اس پر مستزاد یہ کہ جس طرح میرےوالدین اسلام کو سمجھتے ہیں اس  طرح کی معلومات مجھے نہیں مل رہیں۔

میں کینیڈا میں پیدا ہوئی ہوں اور ان قلیل سے لڑکیوں میں شامل ہوتی ہوں جو اسلامی تعلیمات کو مزیدحاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن افسوس کہ میں ابھی تک بہت سی اسلامی معلومات سے جاہل ہوں حالانکہ ہر روز دین پر عمل کرتی ہوں۔

مختصرطور پر گزارش ہے کہ مجھے ایک مشکل درپیش ہے میں انیس برس کی ہوں اور ایک لبنانی شخص نے میرے ساتھ شادی کی ہے منگنی کے بعد انکشاف ہواکہ ماضی میں اس کے بہت سی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔میں طبعی طور  پر سمجھتی ہوں کہ ہمارے دین میں ایسا کرنا بہت ہی بڑی غلطی ہے۔اب مجھے یہ  فیصلہ کرناہے کہ میں اس شخص سے شادی کروں  یا انکار کردوں میراذاتی طور پر تو یہ خیال ہے کہ ایسے شخص سے مرتبط نہ ہواجائے  لیکن میرے خاندان والے کہتے ہیں کہ میں اسے معاف کردوں اور اس سے درگزر کروں اس مسئلہ میں آپ کی کیارائے ہے؟

کیا ایسے شخص سے میرے جیسی لڑکی کا شادی کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کا ماضی خراب ہی رہا ہو؟مجھے اسلامی معلومات کے حصول میں بہت ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بعض اوقات کتابیں بھی میرے سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہوتی ہیں میں آپ کاوقت لینے پر ایک آ پ کی شکر گزار ہوں۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے   پہلے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ آ پ نے جو اچھے کلمات کہے ہیں ان پر وہ آپ کو جزائے خیرعطا  فرمائے۔ہم آپ کےمکمل سوالات کے جواب نہ دے  سکنے پر معذرت خواہ ہیں۔البتہ آپ کے متعلق جو سوال ہے اس کے بارے میں ہم آ پ سے یہ کہیں گے کہ جس شخص نے آپ سے منگنی کی ہے اس کی موجودہ حالت دیکھی جائے گی نہ کہ ماضی کے حالات۔ہم یہ دیکھیں گےکہ آیا وہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی کررہاہے کہ نہیں مثلاً پانچوں نمازوں کی پابندی وغیرہ اس طرح وہ حرام کاموں سے بچتا ہے کہ نہیں اور  اس نے  اپنے ماضی میں جن حرام اُمور کا ارتکاب کیا تھا ان سے توبہ کی ہے کہ نہیں؟

اگر تووہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کررہا ہے اور اس سے شادی کرنے میں بھی یہ چیز مطلوب ہے تو پھر اس سے شادی کرلینی چاہیے۔بالخصوص جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کا یہ فرمان بھی قابل اعتناء ہے کہ:

"جب تمہارے  پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیجے جس کا دین اور اخلاق تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کردو اگر تم ایسا نہ کرو گے توزمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا۔"( حسن ارواءالغلل(1868) صحیح الجامع الصغیر(270) ترمذی(1084)

اورایسے سچی توبہ کرنے والے شخص کے ماضی کو کریدنا بھی درست نہیں بلکہ اس پر پردہ ڈال دینا چاہیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کافرمان ہے:

"جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کی دنیا میں پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ اس کی آخرت میں پردہ پوشی  فرمائے گا۔"( صحیح صحیح الجامع  الصغیر(6287)

لیکن اگر وہ اپنے سابقہ گناہوں پر ابھی بھی قائم ہو  اور اس نے خالص توبہ نہ کی ہوتو ایسے شخص سے مطلقاً آ پ شادی کرنے پر رضا مند نہ ہوں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

"زانی مرد زانی یا مشرک عورت کے علاوہ کسی  اور سے نکاح نہیں  کرتا اور زانی عورت بھی زانی یا مشرک مرد کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا ہے۔"(النور:3)

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  اس آیت کی  تفسیر میں   فرماتے ہیں:

"اور مومنوں پر یہ حرام کردیا گیا ہے "سے مراد ہے زنا کار عورتوں کا پاکدامن مردوں سے شادی کرنا حرام کردیا گیا ہے۔

اسی بنا پر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا ہے زانی عورت جب تک اپنی فحاشی پر قائم ہے عفت وعصمت کے مالک شخص کا اس سے نکاح صحیح نہیں اسے توبہ کا کہاجائے  گا اگر وہ توبہ کرلے تو پھر اس سے نکاح  صحیح ہوگا لیکن اگر وہ توبہ نہیں کرتی تو  پھر اس سے نکاح جائز نہیں۔اسی طرح  پاکدامن عورت کی کسی فاسق وفاجر سے شادی جائز نہیں حتیٰ کہ وہ اس  سے صحیح طورپر توبہ نہ کرلے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

"اور یہ مومنوں پر حرام کردیا گیا ہے۔"

لیکن اگر وہ توبہ کرلے تو اس سے نکاح کرنا صحیح ہے۔

فاجر اور زانی سے نکاح کرنے پر جو کچھ فساد مرتب ہوگا وہ کسی سے مخفی نہیں۔یہ بہت ہی مشکل ہوتا ہے کہ کسی کی حقیقت کاادراک حاصل کرلیاجائے لیکن تحقیق وتفشیش مشاورت اور اس کی حالت معلوم کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا والتجا کے ذریعے اس مشکل سے نکلا جاسکتا ہے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آ پ کے لیے خیروبھلائی اختیار کرے اور آپ کی صحیح راستے کی طرف راہنمائی فرمائے۔(آمین)(شیخ محمد المنجد)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص230

محدث فتویٰ

تبصرے