سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(136) اپنی بیوی کی والدہ کا بوسہ لینا

  • 15654
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-20
  • مشاہدات : 267

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا آدمی کے لیے اپنی بیوی کی والدہ کابوسہ لینا جائز ہے اور کیا وہ اس کے لیے اپنا چہرہ ننگا کر سکتی ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا آدمی کے لیے اپنی بیوی کی والدہ کابوسہ لینا جائز ہے اور کیا وہ اس کے لیے اپنا چہرہ ننگا کر سکتی ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس کے لیے چہرہ ننگا کرنا بلااختلاف جائز ہے البتہ اس کا بوسہ لینا ہونٹوں پر جائز نہیں کیونکہ اس سے شہوت بھڑک اٹھنے کا خطرہ ہے ہاں اگر بطور احترام سفر سے واپسی پر یا اس کی مثل کسی مناسبت سے شہوت کے بھڑکنے سے بے خوف ہوکر اس کے سر یا پیشانی کا بوسہ لے تو اس میں کو ئی حرج نہیں۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد آل شیخ )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص197

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ