سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(115) کیا سابقہ سسر محرم ہے؟

  • 15633
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-19
  • مشاہدات : 325

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسلمان عورت کے سابقہ سسر کے ساتھ کس طرح کے  تعلقات ہوں گے اور کیا اس کے آنے پر عورت کے لیے اس سے پردہ کرنا واجب ہوگا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسلمان عورت کے سابقہ سسر کے ساتھ کس طرح کے  تعلقات ہوں گے اور کیا اس کے آنے پر عورت کے لیے اس سے پردہ کرنا واجب ہوگا؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کا سسر اس کے لیے محرم ہوگا خواہ خاوند نے اسے طلاق ہی کیوں نہ دے دی ہو اس لیے کہ اللہ  تعالیٰ نے حرام کردہ عورتوں کے بیان میں فرمایا ہے:

"اور(تم پر  حرام ہیں) تمہارے سگے بیٹوں کی بیویاں۔"(النساء:23)

یہاں پر صرف عقد نکاح سے ہی حرمت ثابت ہوجاتی ہے اس لیے اگر کسی مرد نے عورت سے عقد نکاح کرلیا تو خاوند کا والد(یعنی عورت کا سسر) ا پنی بہو کا محرم بن جائے گا خواہ شوہر نے اس سے ہم بستری نہ بھی کی ہو۔

علمائے کرام اسے محرمات بالمصاہرہ(یعنی نکاح کی وجہ سے حرام کردہ) کا نام دیتے ہیں۔محرمات بالمصاہرہ کی چار قسمیں ہیں:

1۔جس سے والد نے نکاح کرلیا  ہو(یعنی والد کی بیوی اور اس طرح دادا کی بیویاں) اس کی دلیل  اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

"اور  ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔" النساء:22

2۔بیوی کی والدہ اور اس کی نانیاں(یعنی ساس اور اس کی نانیاں)اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:اور(تم پر حرام ہیں) تمہاری بیویوں کی مائیں۔" النساء:23

3۔ربیبہ(یعنی بیوی کی پہلے خاوند سے بچی) ربیبہ اس وقت حرام ہوگی جب مرد نے اس کی والدہ سے ہم بستری کرلی ہو لیکن اگر اس کی ماں سے ابھی صرف عقد نکاح ہی ہوا ہے اور ہم بستری نہیں ہوئی تو اس صورت میں اس کی بیٹی یعنی ربیبہ حرام نہیں ہوگی۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

"اور (تم پر حرام ہیں)  تمہاری پرورش کردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم ہم بستری کرچکے ہو اور اگر تم نے ان سے ہم بستری نہیں کی تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔" النساء:23

4۔بیٹے کی بیوی(یعنی بہو) اور  اسی طرح  پوتوں کی بیویاں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

"اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں(تم پر  حرام) ہیں۔" النساء۔23۔ مزیدتفصیل کے لیے دیکھئے جامع احکام النساء للعدوی(5/302)

شیخ محمد بن صالح عثمین  رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں،فرمان باری تعالیٰ ہے کہ:

"اور(تم پر حرام ہیں) تمہاری پرورش کردہ لڑکیاں جوتمہاری گودمیں ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم ہم بستری کرچکے ہو اور اگر تم نے ان سے جماع نہیں کیا تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں۔" النساء۔23

تحریم مصاہرہ میں یہ تین قسمیں ہیں(یعنی شادی کی وجہ سے یہ تین قسم کی حرمت ہے) پس اللہ تعالیٰ کے فرمان:"تمہاری بیویوں کی مائیں"کا مطلب ہے مرد پر اس کی ساس جو کہ بیوی کی والدہ ہے اور اس کی نانی خواہ ا س سے بھی اوپر والی ہو(یعنی نانی کی ماں اور اس کی ماں غیر سب) حرام ہیں اور یہ محض عقد نکاح کی وجہ سے ہی حرام  ہوجائیں گی۔

جب کوئی مرد کسی عورت سے نکاح کرے تو اس کی  بیوی کی والدہ اس کی محرم بن جائے گی خواہ اس نے بیوی سے ہم بستری کی ہو  یا نہ کی ہو۔بالفرض اگر نکاح کے بعد بیٹی فوت ہوجاتی ہے یا اسے طلاق دے دی جاتی ہے تو وہ بعد میں بھی اس کی والدہ کا محرم ہی رہے گا۔وہ اس کے سامنے اپنا چہرہ ننگا کرسکتی ہے اس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے اور خلوت بھی کرسکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔اسلیے کہ بیوی کی والدہ(یعنی ساس) اور اس کی نانی صرف عقد نکاح سے ہی حرام ہوجاتی ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا عموم ہے:

اور"(حرام ہیں تم پر) تمہاری بیویوں کی مائیں۔" النساء۔23

اور عورت صرف عقد نکاح کی بنا پر ہی مرد کی بیوی بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان"اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں(تم پر حرام کردی گئی ہیں)۔"سے میرے بیٹے کی بیوی(یعنی بہو) ہے خواہ وہ اس سے بھی نیچے والے کی بیوی ہو(یعنی پوتے کی یا پوتے کے بیتے کی وغیرہ) وہ اس کے والد پر صرف عقد نکاح سے ہی حرام ہوجائے گی اور اسی طرح دادا پر پوتے کی بیوی صرف عقد نکاح سے ہی حرام ہوجائے گی۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا عموم ہے:

"اور(تم پر حرام ہیں) تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں۔"

اور عورت صرف عقد نکاح کے ساتھ ہی خاوند کی بیوی بن جاتی ہے۔ مزید دیکھئے الفتاوی الجامعہ للمراۃ المسلمۃ(2/591)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص175

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ