سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(114) کیا خاوند کا رضاعی باپ محرم ہے؟

  • 15632
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-19
  • مشاہدات : 271

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بہو کا اپنے رضاعی سر سے پردہ نہ کرنے کا حکم؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بہو کا اپنے رضاعی سر سے پردہ نہ کرنے کا حکم؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

راجح قول جسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے اختیار کی ہے کے مطابق عورت کا اپنے رضاعی سسر سے  پردہ نہ کرنا جائزنہیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے:

"الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة "

"جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔" بخاری(5099) کتاب النکاح باب قول اللہ تعالیٰ﴿ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ موطا (2/601)مسلم(1444) کتاب الرضاع:باب يحرم من  الرضاعة ما يحرم  من الولادة "نسائی(6/102) دارمی (2/155) وغیرہ

اور عورت  کا سسر بہو پر نسبی اعتبار سے حرام نہیں بلکہ وہ تو شادی کی وجہ سے حرام ہوا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا بھی  فرمان ہے:

"اور(تم پرحرام ہیں) تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں۔" النساء۔23

رضاعی بیٹا مرد کا صلبی اور سگا بیٹا نہیں اس بنا پر اگر عورت کے خاوند کا کوئی  رضاعی باپ ہو تو وہ عورت واجبی طور پر اس سے پردہ کرے گی اور اس کے سامنے اپنا چہرہ وغیرہ ننگا نہیں کرے گی اور اگر بالفرض رضاعی بیٹے سے عورت کو علیحدگی ہوجائے تو پھر جمہور علمائے کرام کی رائے میں اس عورت کا رضاعی سسر سے  نکاح حلال نہیں ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص174

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ