سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(113) لڑکی کا اپنے والد کے ماموں سے شادی کا حکم

  • 15631
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-19
  • مشاہدات : 278

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا لڑکی اپنے والد کے ماموں سے شادی کرسکتی ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا لڑکی اپنے والد کے ماموں سے شادی کرسکتی ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لڑکی کا اپنے والد کے ماموں سے شادی کرنا جائز نہیں اس لیے کہ والد کے ماموں اس کے بھی ماموں ہیں اور وہ اس کے محرموں  میں سے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"تم  پر تمہاری مائیں،تمہاری بیٹیاں،تمہاری بہنیں،تمہاری پھوپھیاں،تمہاری خالائیں ،تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں حرام ہیں۔ النساء۔23

علمائے کرام نے دلائل کے ساتھ یہ بات ثابت کی ہے کہ والد کا چچا اس کے بیتے بھی چچا ہے اور والد کا ماموں اس کے بیتے کا بھی ماموں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص174

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ