سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(111) داماد سے پردے کا حکم

  • 15629
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-19
  • مشاہدات : 295

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض عورتیں اپنے دامادوں سے  پردہ کرتی ہیں اور ان سے سلام اور مصافحہ بھی نہیں کرتیں تو کیا ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے  یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض عورتیں اپنے دامادوں سے  پردہ کرتی ہیں اور ان سے سلام اور مصافحہ بھی نہیں کرتیں تو کیا ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے  یا نہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کا داماد شادی کی وجہ سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں ان میں شامل ہے لہذا داماداپنی ساس کی وہ اشیاء دیکھ سکتاہے جو اس کے لیے ا پنی والدہ ،بہن،بیٹی اور  باقی سب محرمات کی دیکھنی جائز ہیں۔ساس کا اپنے داماد سے اپنا چہرہ اور بازو بال وغیرہ کا پردہ کرنا پردے کے غلو میں شامل ہوتا ہے اور اسی طرح ملاقات کے وقت مصافحہ نہ کرنا غلو ہے ایسا کرنے سے ہوسکتا ہے نفرت اور قطع رحمی پیدا ہو۔اس لیے ضروری ہے کہ وہ ا س کام میں غلو کرنے سے بچے لیکن جب وہ داماد کے فتنہ وشریا آنکھوں کی خیانت دیکھے تو پھر وہ جو کچھ کررہی ہے اس کے لیے درست ہے۔(سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی)

شیخ ابن عثمین  رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اسی کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص172

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ