سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(56)کیا نصرانی عورت کسی مسلمان سے شادی کر سکتی ہے؟

  • 15558
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-18
  • مشاہدات : 792

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک نصرانی عورت ہوں کچھ مدت قبل ایک  مسلمان سے شادی کی ہے ہمارے عقائد میں اختلاف کی وجہ سے ہماراعقد نکاح آپ کی مسجد کے قریبی دارالعدل میں ہوا توکیا اسلام میں یہ شادی حقیقی طور پر صحیح ہے؟

میں نے یہ مسئلہ بہت تلاش کیا لیکن مجھے اس وقت بہت زیادہ گھبراہٹ ہوئی جب میں نے یہ پڑھا کہ اسلام اسے صحیح تصور نہیں کرتا ۔میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ وضاحت کریں (کیونکہ) میں اس شخص سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر تو نکاح میں مندرجہ ذیل تین اشیاء پائی گئی ہیں تو نکاح صحیح ہے۔

1۔آپ کے ولی (یعنی والد یا اس کے نائب و قائم مقام ) کی طرف سے شادی کی اجازت یہ کہ میں نے آپ سے اپنی بیٹی کی شادی کی۔

2۔خاوند کی طرف سے قبول کرنا یعنی وہ کہے کہ میں نے اسے قبول کیا۔

3۔نکاح دو مسلمان گواہوں کی موجود گی میں ہوا ہو۔

اس طرح نکاح صحیح ہو گا اور اگر شروط نکاح میں سے کوئی ایک شرط بھی ناقص ہوئی تو نکاح صحیح نہیں اور آپ کو دوبارہ نکاح کرنا ہو گا ۔نیز صحت نکاح میں جگہ کا کوئی دخل نہیں۔ اس سے صحت نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اے سائلہ محترمہ آپ کے سوال نے ہمیں اس طرف متنبہ کیا ہے آپ اس معاملہ میں دین اسلام کی معرفت کا پختہ ارادہ رکھتی ہیں شاید کہ یہ ایک بڑی حقیقت کی تلاش کا پیش خیمہ اور سبب ہو کہ دین حق کون سا ہے؟ تو آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم آپ کے سامنے چند ایک سوال رکھ سکیں؟

1۔کیا آپ سعادت مندی اور خوشی کی زندگی چاہتی ہیں؟

2۔کیا آپ اطمینان قلب تلاش کرنا چاہتی ہیں؟

3۔کیا آپ حقیقت تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں؟

4۔کیا آپ اپنی اولاد کے لیے سیدھی اور سچی زندگی چاہتی ہیں؟

تو پھر آپ کے علم میں ہو نا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو ایک عظیم مقصد اور غرض و غایت کے لیے پیدا فرمایا ہے جو کہ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت ہے۔

"میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے۔ کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں نہ تو میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ ہی میری چاہت ہے کہ وہ مجھے کھلائیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے۔"[1]

اور اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کی دعوت دینے کے لیے انبیاءورسل کو مبعوث فرمایا ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان کچھ یوں ہے کہ۔

"ہم نے ہراُمت میں رسول بھیجا کہ لوگو!صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی ۔پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟[2]

پھر اللہ تعالیٰ نے یہ رسالت و نبوت کا سلسلہ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم   پر ختم کر کے انہیں خاتم النبیین بنا دیا۔

"لوگو! تمھارےمردوں میں سے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم   کسی کے بھی باپ نہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین  صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔"[3]اور ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح فر مایا۔

"محمد  صلی اللہ علیہ وسلم   اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی کے حصول کے لیے رکوع اور سجدے کر رہے ہیں ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے ان کی یہی مثال تورات اور انجیل میں بھی بیان کی گئی ہے اس کھیتی کی مثال جس نے اپنی انگوری نکلی اور پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹی ہوگئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی اور کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے ان ایمان والوں سے اللہ تعالیٰ نے بخشش اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔"[4]رسول اور انبیاء بھیجنے کی حکمت یہ تھی کہ لوگوں پر حجت قائم ہو جا ئے اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیا تھا جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات سناتا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتا۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہےکہ۔

"یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ حضرت نوح  علیہ السلام   اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی اور ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام  ، حضرت اسماعیل  علیہ السلام  ، حضرت اسحٰق ، علیہ السلام   حضرت یعقوب ، علیہ السلام   اور ان کی اولاد حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  ، حضرت ایوب  علیہ السلام  ،حضرت یونس علیہ السلام  ،حضرت ہارون علیہ السلام  ،اور حضرت سلیمان  علیہ السلام  کی طرف وحی کی اور ہم نے داؤد  علیہ السلام   کو زبور عطا فر مائی۔

اور آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کیے اور بہت سے رسولوں کے بیان نہیں بھی کیےاور حضرت موسیٰ علیہ السلام   سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا۔

ہم نے انہیں خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے رسول بنایا تاکہ لوگوں کی کوئی حجت باقی نہ رہ جائے اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔[5]

لہٰذاہم سائلہ محترمہ کو اور ان سب لوگوں کوبھی جو دین اسلام پر ایمان نہیں رکھتے یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اللہ وحدہ لاشریک اور اس کے نبی محمد  صلی اللہ علیہ وسلم   پر ایمان لانے میں جتنی بھی جلدی ہوسکے ایمان لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم   کو جنوں اور انسانوں سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور سب انسانوں اور جنوں کو ان پر ایمان لانے کا حکم دیتے ہوئے کچھ اس طرح فرمان جاری کیا۔

"اے لوگو!تمھارے رب کی طرف سے حق لے کر رسول آگیا ہے پس تم ایمان لے آؤ تاکہ تمھارے لیے بہتری ہو اور اگر تم کافر ہو گئے تو ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اور اللہ تعالیٰ علم والا حکمت والا ہے۔

اے اہل کتاب !اپنے دین کے بارے میں حد سے تجاوزمت کرو اللہ تعالیٰ پر حق کے علاوہ کچھ نہ کہو۔مسیح  علیہ السلام  تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور کلمہ (کن سے پیدا شدہ) ہیں جسے مریم  علیہ السلام   کی طرف ڈال دیا گیا اور اس کی طرف سے روح ہیں پس تم اللہ تعالیٰ اور اس کے سب رسولوں کو مانواور ان پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ اللہ تین ہیں اس سے باز آجاؤ کیونکہ تمھارے لیے اسی میں بہتری ہے۔

عبادت کے لائق تو صرف  ایک اللہ ہی ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولادہو اسی کے لیے ہے جو آسمان و زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کام بنانے والا کافی ہے۔[6]

اللہ تعالیٰ نے قرآن یہ بھی وضاحت فر مائی ہے کہ وہ دین اسلام کے علاوہ کسی سے کوئی بھی دین قبول نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تذکرہ یوں فرمایا:

"اور جو بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا اس کا وہ دین اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔[7]

اور ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا:

" اللہ تعالیٰ فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ عدل قائم رکھنے والا ہے اس غالب اور حکمت والے کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سر کشی اور حسد کی بنا پر اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے ۔ اللہ تعالیٰ اس کا جلدحساب لینے والا ہے۔" [8]

پھر آپ یہ بھی مت بھولیں کہ آپ کا اسلام قبول کرنا آپ کی اولاد کے لیے افضل و بہتر ہے مباداکہ وہ ذہنی اختلاف اور نفسیاتی عذاب کا شکار ہوتے ہوئے یہ نہ کہتے رہیں کہ ہمارا والد مسلمان اور والد ہ نصرانی ہے۔ہم کس کی اقتداء کریں؟

اور ہو سکتا ہے کہ مزید غور و فکر اور سوچ و بچار سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک اچھا نتیجہ ثابت ہو۔ آپ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی کوشش کریں جو کہ اسلام کا معجزہ شمار ہو تا ہے اس کے ساتھ ساتھ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم   کی سیرت کا بھی مطالعہ کریں۔ تو آپ کو علم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح محمد  صلی اللہ علیہ وسلم   اور ان کے ساتھیوں کا اچھا انجام کیا اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   کے ہاتھ پر معجزات کا ظہور فر مایا مثلاً:

انگلیوں سے پانی نکلنا مشرکوں کے مطالبے پر چاند کو دو حصوں میں تقسیم کرنا اور اس کے علاوہ کئی معجزات بھی کتب سیر میں مو جود ہیں۔ اسی طرح غیب اور مستقبل کی وہ پیش گوئیاں جن کا علم وحی کے علاوہ کسی اور طریقے سے نہیں ہو سکتا مثلاًرومیوں کی فارسیوں پر فتح وغیرہ بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   کی نبوت صادقہ پر دلالت کرتی ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سب کے لیے ہدایت کا سوال کرتے ہیں۔(شیخ محمد المنجد)

شیخ ابن جبرین سے مسلمان عورت کے عیسائی مرد سے نکاح کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا:

مسلمان عورت پر حرام ہے کہ وہ عیسائی یا اس کے علاوہ کسی بھی (مذہب کے) کافر سے شادی کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ"اور تم (اپنی عورتوں کو) مشرک مردوں کے نکاح میں مت دو حتی کہ وہ مسلمان ہو جائیں[9]۔(شیخ ابن جبرین)


[1] ۔الذاریات:57۔

[2] ۔النحل:36۔

[3] ۔الاحزاب:40۔

[4] ۔الفتح :29۔

[5] ۔النساء :163۔

[6]۔النساء :170۔171۔

[7] ۔آل عمران :85۔

[8] ۔آل عمران :18۔19۔

[9] ۔البقرۃ22۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 109

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ