سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(288) کیا یادگار کے طور پر تصویریں جمع کرنا جائز ہے؟

  • 15533
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 206

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا یادگارکے طورپرتصویریں  جمع کرنا جائز ہےیا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا یادگارکے طورپرتصویریں  جمع کرنا جائز ہےیا نہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی بھی مسلمان کے لئے خواہ وہ مرد ہویا عورت ،یاد گارکے لئے ذی روح چیزوں مثلا انسانوں وغیرہ کی تصویروں کوجمع کرنا جائز نہیں ہے بلکہ واجب ہے کہ انہیں تلف کردیا جائے کیونکہ نبی کریمﷺسے یہ ثابت ہےکہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سےفرمایاتھا:

«لاتدع صورة الاطمستها’ولاقبرا مشرفا الاسويته»

‘‘ہرتصویر کو مٹادواورہر اونچی قبر کو برابرکردو۔’’

اسی طرح نبی علیہ الصلا ۃ والسلام سے یہ بھی ثابت ہےکہ آپؐ نے گھر میں تصویر رکھنے سے منع فرمایاہے اورجب آپؐ فتح مکہ کہ دن بیت اللہ میں تشریف لے گئے اورآپؐ نے بیت اللہ کی دیواروں کو دیکھا توپانی اورکپڑا منگوایا اوراس کے ساتھ تصویروں کومٹا دیا ،ہاں البتہ جمادات مثلا پہاڑ اوردرخت وغیرہ کی تصویروں میں کوئی حرج نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص408

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ