سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(39)اپنے زنا سے حاملہ لڑکی سے کافر بھائی کی موجودگی میں نکاح

  • 15496
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 479

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے ایک نصرانی عورت سے زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوئی، میں نے اپنی جہالت کی بنا پر یہ سوچا کہ اس معاملے کو صحیح کرنا چاہیے، جس کے لیے ہم نے مسجد میں لڑکی کے کافر بھائی، اس کی والدہ، ایک مسلمان شخص اور مسجد کے امام کے روبرو شادی کر لی، شادی کے وقت وہ لڑکی مسلمان نہیں تھی لیکن ولادت سے قبل اس نے اسلام قبول کر لیا، تو ہماری اس شادی کا کیا حکم ہے؟ اس بچے کے بارے میں کیا حکم ہے اور اس کے علاوہ دوسری اولاد کا کیا حکم ہے؟
میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور جس جاہلیت پر تھا واپس نہیں جانا چاہتا، اب مجھے یہ خدشہ ہے کہ کہیں ہماری یہ شادی غیر شرعی نہ ہو، جس کی بنا پر میں اپنے اسی گناہ کا مرتکب نہ ہوتا رہوں جو پہلے چکا ہے۔ مجھے اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے کیا کرنا چاہیے تاکہ میں اس تنگی سے نکل سکوں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے ایک نصرانی عورت سے زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوئی، میں نے اپنی جہالت کی بنا پر یہ سوچا کہ اس معاملے کو صحیح کرنا چاہیے، جس کے لیے ہم نے مسجد میں لڑکی کے کافر بھائی، اس کی والدہ، ایک مسلمان شخص اور مسجد کے امام کے روبرو شادی کر لی، شادی کے وقت وہ لڑکی مسلمان نہیں تھی لیکن ولادت سے قبل اس نے اسلام قبول کر لیا، تو ہماری اس شادی کا کیا حکم ہے؟ اس بچے کے بارے میں کیا حکم ہے اور اس کے علاوہ دوسری اولاد کا کیا حکم ہے؟

میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور جس جاہلیت پر تھا واپس نہیں جانا چاہتا، اب مجھے یہ خدشہ ہے کہ کہیں ہماری یہ شادی غیر شرعی نہ ہو، جس کی بنا پر میں اپنے اسی گناہ کا مرتکب نہ ہوتا رہوں جو پہلے چکا ہے۔ مجھے اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے کیا کرنا چاہیے تاکہ میں اس تنگی سے نکل سکوں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ عقدِ نکاح فاسد ہو گا کیونکہ ایسی حالت میں ہوا تھا کہ لڑکی زنا سے حاملہ تھی اور اس لیے بھی کہ یہ نکاح گواہوں کی غیر موجودگی میں ہوا ہے کیونکہ اس کے لیے دو مرد گواہ ہونے ضروری ہیں اور اسی طرح عورت کے ولی کی طرف سے ایجاب ہونا چاہیے۔ اس لیے اس نکاح کی تجدید ہونی چاہیے جس کے لیے عورت کا مسلمان ولی ہویا پھر مسلمان قاضی کی طرف سے ایجاب ہونا ضروری ہے۔ رہا مسئلہ اولاد کا تو وہ ان کے والد (جس کے  بستر پر پیدا ہوئی ہے) کی طرف منسوب ہوں گے، وہ ان میں سے کسی کا بھی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ بچہ بستر والے کا ہی  ہوتا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 86

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ