سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(37)گواہوں کے بغیر شادی

  • 15494
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-27
  • مشاہدات : 1366

سوال

(37)گواہوں کے بغیر شادی

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت نے کسی شخص سے کہا میں نے تجھے بطور خاوند  قبول کیا اور اسی طرح وہ شخص بھی اسے کہنے لگا کہ میں اس پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں، لیکن اس میں کوئی گواہ وغیرہ موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد دونوں نے ایک تقریب کا انعقاد کر کے لوگوں کو بتایا کہ انہوں نے شادی کر لی ہے لہٰذا اس شادی کا کیا حکم ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

’’ولی اور دو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔‘‘

(صحیح: ارواؤ الغلیل: 1858)

امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ صحیح تو یہی ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ’’نکاح گواہی کے بغیر نہیں ہوتا۔ صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد والے اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے اور ان کا کہنا ہے کہ گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔‘‘

(جامع ترمذی: 4؍253)

لہٰذا اگر سائلین نے بغیر گواہوں کے ہی نکاح کر لیا ہے تو انہیں  کر لیا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ لڑکی کے ولی اور دو گواہوں  کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کریں۔ 

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 85

محدث فتویٰ

تبصرے