سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(10)کیا جنسی لحاظ سے کمزور شخص کا شادی کرانا جائز ہے؟

  • 15452
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 320

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ابھی تک کنوارا ہوں اور بیوی کی تلاش میں ہوں، لیکن مجھے ایک مشکل ہے کہ مجھے تھوڑی بہت  جنسی کمزوری لاحق ہے جو غیر یقینی اور غیر منتظم قسم کی ہے، ہر وقت یہ سوچ گھیرے رکھتی ہے کہ میں نے اگر شادی کر لی تو بیوی میری حالت قبول نہیں کرے گی اور معاملہ طلاق پر جا پہنچے گا، تو  میرے  لیے کیا کرنا بہتر ہے آیا میں شادی کروں یا نہ کروں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ابھی تک کنوارا ہوں اور بیوی کی تلاش میں ہوں، لیکن مجھے ایک مشکل ہے کہ مجھے تھوڑی بہت  جنسی کمزوری لاحق ہے جو غیر یقینی اور غیر منتظم قسم کی ہے، ہر وقت یہ سوچ گھیرے رکھتی ہے کہ میں نے اگر شادی کر لی تو بیوی میری حالت قبول نہیں کرے گی اور معاملہ طلاق پر جا پہنچے گا، تو  میرے  لیے کیا کرنا بہتر ہے آیا میں شادی کروں یا نہ کروں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسانی جنس میں شہوت کے معاملہ میں بہت ہی فرق پایا جاتا ہے کسی میں تو بہت زیادہ ہوتی ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن میں یہ بہت ہی کم ہوتی ہے  اور کچھ میں میانہ روی ہوتی ہے اور کچھ ایسے مرد بھی ہوتے ہیں جن میں بالکل ہی شہوت نہیں ہوتی، اگر تو آپ کی نکاح میں شہوت ہے چاہے وہ کم ہی ہے تو پھر آپ شادی کر سکتے ہیں، اس میں اتنا ہی کافی ہے کہ آپ بیوی سے ہمبستری کرنے کی طاقت رکھتے ہوں چاہے مہینہ میں ایک بار ہی سہی  یا پھر دو ماہ میں ایک بار۔

لیکن اگر کوئی بالکل ہی ہم بستری کی طاقت نہ رکھتا ہو تو پھر لڑکی کے ولی سے قبل بتا دینا اس پر ضروری ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 45

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ