سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(9)اپنے آپ کو عبادت کے لیے وقف کر دینا اور نکاح نہ کرنا

  • 15451
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 274

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایسی عورت پر شادی کرنا واجب ہے جو ساری زندگی اپنے آپ کو فحاشی اور غلط کاموں سے بچانے کی استطاعت رکھتی ہو، اسے یہ رغبت ہو کہ وہ ازدواجی زندگی کے مشاغل سے ہٹ کر عبادت میں مشغول رہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایسی عورت پر شادی کرنا واجب ہے جو ساری زندگی اپنے آپ کو فحاشی اور غلط کاموں سے بچانے کی استطاعت رکھتی ہو، اسے یہ رغبت ہو کہ وہ ازدواجی زندگی کے مشاغل سے ہٹ کر عبادت میں مشغول رہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ عزوجل نے نکاح کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

﴿وَأَنكِحُوا الأَيـٰمىٰ مِنكُم وَالصّـٰلِحينَ مِن عِبادِكُم وَإِمائِكُم ۚ إِن يَكونوا فُقَراءَ يُغنِهِمُ اللَّـهُ مِن فَضلِهِ ۗ وَاللَّـهُ وٰسِعٌ عَليمٌ ﴿٣٢﴾...النور

’’ تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے ‘‘

اور نبی کریم ﷺ نے بھی نکاح کرنے کا حکم دیا ہے:

(يا معشر الشباب من استطاع منكم البائة فليتزوج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء)

’’اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے اور جس میں اس کی طاقت نہیں وہ روزے رکھے کیونکہ وہ اس کے لیے ڈھال ہیں۔‘‘ (بخاري (5065)، كتاب النكاح ، باب قول النبي : من استطاع الباءة فيلتزوج، مسلم (1400)، ابو داؤد (3046)، نسائي (4/171)، ابن ماجة (1845)

اور ان تين صحابہ كرام کے قصے میں بھی ہے کہ جو نبی کریم ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھنے کے لیے گھر گئے تو انہیں جب نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس عبادت کو اپنے لیے کم سمجھا۔ اس قصے میں ہے کہ ایک صحابی کہنے لگا، میں عورتوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کبھی شادی نہیں کروں گا۔

نبی کریم ﷺ نے اس اور باقی دونوں صحابیوں کو رد کرتے ہوئے فرمایا: میں روزہ رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، میں رات کو عبادت کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں نے شادی بھی کی ہے اور جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی وہ مجھ سے نہیں۔ (بخاري (5023) كتاب النكاح: باب الترغيب في النكاح، مسلم (1401) كتاب النكاح: باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه، نسائي (3217) أحمد (3/241) عبد بن حميدص 392)

اس قصے میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہود ونصاریٰ میں سے عورتوں اور مردوں کے فعل رہبانیت اور عورتوں سے علیحدگی سے بچنے کا حکم دیا ہے لہٰذا ایسی عورت کے لائق ومناسب نہیں کہ وہ خاوند کے بغیر ہی ساری زندگی بسر کر دے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 44

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ