سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(7)لڑکی اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کرنا چاہے اور گھر والے انکار کریں

  • 15448
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 380

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 لڑکی جس سے محبت کرتی ہے گھر والے اس سے شادی کرنے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تیرے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرے گا اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے لڑکے کو لڑکی سے بحث کرتے ہوئے دیکھا ہے  کہ  وہ سخت رویہ میں اس سے بحث کر رہا ہے، لڑکی اس سے محبت کرتی ہے اب اسے کیا کرنا چاہیے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 لڑکی جس سے محبت کرتی ہے گھر والے اس سے شادی کرنے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تیرے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرے گا اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے لڑکے کو لڑکی سے بحث کرتے ہوئے دیکھا ہے  کہ  وہ سخت رویہ میں اس سے بحث کر رہا ہے، لڑکی اس سے محبت کرتی ہے اب اسے کیا کرنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

: پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی عورت کے لیے ، خواہ وہ کنواری ہو یا شوہر دیدہ، اپنے ولی کی اجازت کے بغیر  شادی کرنا جائز نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ عادتاً اور اغلباً گھر والے ہی اپنی بیٹی کے لیے زیادہ مناسب رشتہ تلاش کرسکتے ہیں اور وہی اس کی تعیین کر سکتے ہیں کہ ان کی بیٹی کے لیے کون بہتر رہے گا، کیونکہ عموماً لڑکی کو زیادہ علم نہیں ہوتا اور نہ ہی  اسے زندگی کا زیادہ تجربہ ہوتا ہے، ممکن ہے وہ بعض میٹھے بول اور اچھے کلمات سے دھوکہ کھا جائے اور اپنی عقل کی بجائے اپنے جذبات سے فیصلہ کر ڈالے (پھر ساری عمر پچھتاتی رہے)۔

اس لیے لڑکی کو چاہیے کہ اگر اس کے گھر والے دینی اور عقلی اعتبار سے صحیح ہوں تو وہ اپنے گھر والوں کی رائے سے باہر نہ جائے بلکہ ان کی رائے قبول کر لے،لیکن اگر عورت کے ولی بغیر کسی صحیح سبب کے رشتہ رد کر دیں یا ان کا رشتہ اختیار کرنے کا معیار ہی غیر شرعی ہو مثلاً اگر صاحب دین اور باخلاق پر کسی مالدار فاسق وفاجر کو ترجیح دیں۔ تو ایسی صورت میں لڑکی کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا معاملہ شرعی قاضی تک لے جائے اور ایسے شخص سے شادی کو رکوائے خواہ والدین اس پر مصر ہی کیوں نہ ہوں۔

تیسری بات یہ ہے کہ لڑکی اور لڑکے میں جو محبت پیدا ہوتی ہے ممکن ہے اس کی بنیاد ہی غیر شرعی ہو مثلاً ایک دوسرے سے میل جول، خلوت، کلام اور بات چیت کرنا اور ایک دوسرے کی تصاویر کا تبادلہ وغیرہ، سب کام حرام اور غیر شرعی ہیں۔

اگر تو معاملہ ایسا ہی ہے تو لڑکی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس نے حرام کام کیا ہے، یہ اس کے لیے مرد کی محبت کا  پیمانہ نہیں، اس لیے کہ یہ تو عادت بن چکی ہے کہ مرد اس عرصہ میں بہت زیادہ محبت اور اپنی استطاعت کے مطابق  اچھے اخلاق اور اچھے برتاؤ کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ وہ لڑکی کے دل کو اپنی جانب مائل کر سکے اور اس طرح اس کی خواہش اور مطلب پورا ہو سکے۔

اور اگر اس کا مقصد اور مطلب حرام کام (یعنی بدکاری وغیرہ) ہو تو پھر وہ لڑکی اس بھیڑیے کا شکار  ہو کر اپنے دین کے بعد سب سے قیمتی اور عزیز چیز (عزت وناموس) بھی گنوا بیٹھتی ہے اور اگر اس کا مقصد شرعی ہو (یعنی شادی کرنا)  تو پھر اس نے اس کے لیے ایک غیرشرعی طریقہ اختیار کیا ہے اور شادی کے بعد لڑکی اس کے اخلاق اور سلوک وبرتاؤ سے تنگ ہو گی، اس طرح کے معاملات میں اکثر بیویوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔

لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے کوئی اچھا اور بہتر رشتہ تلاش کریں اور انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ہونے والے داماد کے بارے میں بہت زیادہ تحقیق کریں، کسی بھی شخص کو کسی گرما گرم بحث سے پہچاننا ممکن نہیں، یقیناً اس کا کوئی سبب ہو گا جس نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہو گا۔ اصل اعتبار تو اس کے دین اور اخلاق کا ہے اور گھر  والوں کو نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کا علم ہونا چاہیے کہ

(لم نر للمتحابين مثل النكاح)

’’دومحبت کرنے والوں کے لیے ہم نکاح کی مثل کچھ نہیں دیکھتے۔‘‘ (صحیح: السلسلۃ الصحیحۃ (624)، ہدایۃ الرواۃ (3029) 3؍247) صحیح الجامع الصغیر (5200) ابن ماجۃ (1847) کتاب النکاح: باب ماجاء فی فضل النکاح ، مستدرک حاکم (2؍160) کتاب النکاح: باب لم یر للمتحابین مثل التزویج، بیہقی فی سنن الکبری ( 7؍78) حافظ بوصیری  نے فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔ (الزوائد (2؍65)

لڑکی کو چاہیےکہ وہ اپنے والدین  کی اطاعت کرے کیونکہ وہ اس کے لیے زیادہ درست چیز کو بہتر جانتے ہیں وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی اپنے خاوند کے ساتھ سعادت کی زندگی بسر کرے جو اس کی حرمت وتقدس کا  خیال رکھے اور اس کے حقوق کی بھی پاسداری کرنے والا ہو۔  
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 42

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ