سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(6)شوہر کی وفات کے بعد بیوی کا شادی سے رک جانا

  • 15446
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 308

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا  عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے پہلے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی سے رکی رہے یا کوئی  آدمی اپنی بیوی کو حکم دے کہ اگر وہ اس سے پہلے فوت ہو گیا تو وہ دوسری شادی نہیں کرے گی؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا  عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے پہلے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی سے رکی رہے یا کوئی  آدمی اپنی بیوی کو حکم دے کہ اگر وہ اس سے پہلے فوت ہو گیا تو وہ دوسری شادی نہیں کرے گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد (دوسری) شادی سے رک جائے کیونکہ یہ (رکنا) صرف نبی کریم ﷺ کی بیویوں کے ساتھ خاص تھا (یعنی ان کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ آپ ﷺ کی  وفات کے بعد کسی بھی دوسرے شخص سے شادی کریں) اور اس کے شوہر کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ اسے اپنے  بعد شادی سے روکے اور (اگر وہ روکتا ہے تو ) اس حکم میں اس پر شوہر کی اطاعت لازم نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

(إنما الطاعة فى المعروف)

’’اطاعت صرف نیکی کے کام میں ہے۔‘‘  (صحیح، صحیح الجامع الصغیر (7520) المشکاۃ (3696))

(سعودی فتویٰ کمیٹی)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 41

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ