سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(5)کیا عورت پر شادی کرنا واجب ہے؟

  • 15444
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 325

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت پر شادی کرنا واجب ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت پر شادی کرنا واجب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہم ذیل میں مسلمان فقہائے کرام کے موقف پیش کرتے ہیں:

مواہب الجلیل میں لکھا ہے کہ

’’عورت پر اس کے نان ونفقہ اور سر چھپانے سے عاجز ہونے کی بنا پر نکاح کرنا واجب ہے کیونکہ یہ سب کچھ اسے نکاح کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔‘‘

شرح الکبیر میں ہے کہ

’’اگر اسے اپنے آپ پر زنا میں پڑنے کا  اندیشہ ہو تو اس پر نکاح واجب ہے۔‘‘

فتح الوہاب میں ہے کہ

’’طاقت رکھنے والی عورت پر نکاح کرنا سنت ہے اور اسی طرح نفقہ وخرچہ کی محتاج اور وہ عورت جسے فاسق  وفاجر قسم کے مردوں کے حملوں کا ڈر ہو وہ بھی اسی حکم میں شامل ہے۔‘‘

مغنی المحتاج میں ہے کہ

’’جب زنا کا خوف ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، ایک قول کے مطابق اگر وہ نذر مان لے تب بھی نکاح کرنا  واجب ہے۔ پھر عورت کے نکاح کے حکم میں اسی کا قول فیصل ہے: اگر تو وہ اس کی محتاج ہو یا نفقہ وخرچہ کی ضرورت مند ہو یا وہ فاجر قسم کے لوگوں کے حملے سے ڈرے تو پھر اس کے لیے نکاح کرنا مستحب ہے یعنی اس میں اس کے  دین اور شرمگاہ کی حفاظت اور نفقہ وغیرہ کی خوشحالی  ہے۔‘‘

المغنی میں امام ابن قدامہ  رقمطراز ہیں کہ

’’وجوب نکاح میں ہمارے اصحاب میں اختلاف ہے ، مشہور مسلک تو یہی ہے کہ یہ واجب نہیں ہے لیکن اگر کسی کو نکاح ترک کرنے کی بنا پر حرام کام میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو اس پر  اپنے نفس کی عفت لازمی ہے، عام فقہائے  کرام کا یہی قول ہے۔‘‘

نکاح کے سلسلہ میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں:

’’کچھ تو ایسے ہیں کہ اگر وہ نکاح نہ کریں تو انہیں حرام کام میں پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ عام فقہائے کرام کے نزدیک ایسے لوگوں کے لیے نکاح کرنا واجب ہے۔ کیونکہ ان پر اپنے آپ کو حرام کام سے بچانا  اور پاکدامنی اختیار کرنا لازم ہے اور یہ نکاح کے بغیر نہیں ہو سکتا۔‘‘

اور سبل السلام میں ہے کہ

’’ابن دقیق نے ذکر کیا ہے کہ جسے حرام میں پڑنے کا خدشہ ہو اور وہ نکاح کی طاقت بھی رکھتا ہو ایسے شخص پر کچھ فقہائے کرام نے نکاح کرنا واجب قرار دیا ہے۔ تو ایسے شخص پر نکاح واجب ہو گا جو نکاح کیے بغیر زنا ترک نہیں کر سکتا۔‘‘

اور صاحب بدائع الصنائع کا کہنا ہے کہ

’’نکاح کی خواہش اور طاقت رکھنے کی حالت میں نکاح کرنا فرض ہے حتی کہ جو شخص عورت کی خواہش رکھتا ہو  اور صبر نہ کر سکتا ہو اور مہر ونان ونفقہ کی قدرت رکھنے کے باوجود بھی نکاح نہ کرے تو وہ گناہگار ہو گا۔‘‘

درج بالا سطور میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ کن کن حالات میں نکاح کرنا واجب ہوتا ہے، اب اگر آپ یہ کہیں کہ ہم عورت کے متعلق یہ کس طرح تصور کر سکتے ہیں؟ عرف عام میں رواج تو یہ ہے کہ مرد ہی رشتہ تلاش کرتا، شادی کا پیغام دیتا اور نکاح کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، یہ کام عورت کا  نہیں (اس لیے وہ  کیسے فوری طور پر وجوب پر عمل کر سکتا ہے)؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سلسلے میں جو کچھ عورت کر سکتی ہے وہ کرے اور وہ یہ ہے کہ اگر اس کے پاس کوئی اچھا اور کفو دینی رشتہ آتا ہے تو وہ اسے رد نہ کرے بلکہ قبول کر لے۔

عورت اور مرد کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اسلام میں نکاح کا بہت ہی عظیم مقام ومرتبہ ہے، جب اسے یہ علم ہو گا تو پھر وہ اس کی حرص بھی رکھیں گے۔ ذیل میں ہم اس موضوع کے بارے میں بہت ہی عمدہ خلاصہ پیش کرتے ہیں:

٭ امام  ابن قدامہ اپنی کتاب ’المغنی‘ میں لکھتے ہیں کہ

نکاح کی مشروعیت میں اصل تو کتاب وسنت اور اجماع ہے:

1۔ کتاب اللہ کے دلائل یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُبـٰعَ ...٣﴾...النساء

’’جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین اور چار چار سے۔‘‘ 

اور ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا:

﴿وَأَنكِحُوا الأَيـٰمىٰ مِنكُم وَالصّـٰلِحينَ مِن عِبادِكُم وَإِمائِكُم ۚ إِن يَكونوا فُقَراءَ يُغنِهِمُ اللَّـهُ مِن فَضلِهِ ۗ وَاللَّـهُ وٰسِعٌ عَليمٌ ﴿٣٢﴾...النور

’’ تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔‘‘

2۔سنت نبوی کے دلائل

حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷜ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے اور جس میں اس کی طاقت نہیں وہ روزے رکھے کیونکہ وہ اس کے لیے ڈھال ہیں۔‘‘

اس کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث ہیں۔

3۔ اور مسلمانوں کا نکاح کے مشروع ہونے پر اجماع ہے۔

حضرت ابن مسعود ﷜ بیان کرتے ہیں کہ اگر میری عمر کے دس دن بھی باقی بچیں اور مجھے علم ہوکہ میں اس کے آخر میں فوت ہو جاؤں گا اور مجھے نکاح کی خواہش  ہو تو میں نکاح کر لوں گا کہ کہیں فتنہ میں نہ پڑ جاؤں۔

حضرت عبد اللہ بن عباس﷜ نے سعید بن جبیر  سے فرمایا: شادی کرو، کیونکہ اس امت کا سب سے بہتر شخص  وہ ہے جس کی عورتیں زیادہ ہیں۔

ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ مجھے طا ؤس نے کہا: تم نکاح کر لو وگرنہ میں تمہیں وہی بات کہوں گا جو حضرت  عمر﷜نے ابو الزوائد کو کہی تھی کہ یا تو تم نکاح کے قابل ہی نہیں یا پھر تمہیں فسق وفجور (یعنی زنا وبدکاری) نے نکاح کرنے سے روک رکھا ہے۔

امام مروزی  کی روایت میں ہے کہ امام احمد  نے کہا: اسلام میں کہیں بھی تجردکی زندگی گزارنا یعنی بغیر شادی کے رہنا ملتا، لہٰذا جو تمہیں یہ کہے کہ شادی نہ کرو وہ تمہیں اسلام کی نہیں بلکہ کسی اور چیز کی دعوت دے رہا ہے۔

نکاح کی مصلحتیں بہت ساری ہیں، اس میں دین اسلام کی حفاظت اور بچاؤ ہے اور اس سے عورت کی بھی حفاظت وپاکبازی اور اس کے حقوق  کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس سے نسل آگے بڑھتی ہے جو امت اسلامیہ میں  کثرت کا باعث ہے اور کثرت امت پر نبی کریم ﷺ کا روز قیامت فخر فرمانا ثابت ہے۔ نکاح میں اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری مصلحتیں پائی جاتی ہیں۔

اے ہماری سائل بہن! اس (مذکورہ بحث) سے آپ کو علم ہو گیا ہو گا کہ نکاح کی مصلحتیں اور منافع بہت زیادہ ہیں اس لیے کسی بھی مسلمان عورت کو اس سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے، بالخصوص جب اسے کوئی دین اور اخلاق والا رشتہ مل رہا ہو۔ 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 38

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ