سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(234) عورتوں کا مردوں کو بوسہ دینا

  • 15429
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-16
  • مشاہدات : 297

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں چھ ماہ یا ایک سال بعد اپنے خاندان اوررشتہ داروں سے ملاقات کے لئے جاتا ہوں تو تمام چھوٹی بڑی عورتیں میرااستقبال کرتی اورمجھے بوسے دیتی ہیں جس سے مجھے بہت شرم وحیا اورخجالت محسوس ہوتی ہے،سچی بات یہ ہے کہ یہ عادت ہمارے علاقے میں بہت عام ہے اوراس طرح میرے خاندان والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بزعم خود وہ کسی حرام چیزکا ارتکاب نہیں کررہےلیکن میں نے بحمداللہ اسلامی تہذیب وثقافت کو اختیار کیا ہوا ہے اس لئے مجھے اس کام  کی وجہ سےبہت حیرانی وپریشانی ہے لہذا سوال یہ ہے کہ میں ،عورتوں کی اس بوسہ بازی سے کس طرح بچ سکتا ہوں ،اگر میں ان سے مصافحہ نہ کروں تو وہ شدید ناراض ہوں گی اورکہیں گی کہ یہ شخص ہمارا احترام نہیں کرتا،ہمیں ناپسند کرتا ہے اورہم سےمحبت نہیں کرتا۔۔۔یاد رہے اس محبت سے مراد وہ محبت ہے جو ایک خاندان کے افراد کوایک دوسرے سے ہوتی ہے،وہ محبت مراد نہیں ہے جو ایک لڑکے کو لڑکی سے ہوتی ہے۔۔۔اگرمیں عورتوں کو بوسہ دوں تو کیا یہ گناہ ہوگاخواہ اس میں میری نیت بری نہ بھی  ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان کےلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی یا محارم کے سوا کسی اورعورت کو بوسہ دےیا اس سے مصافحہ کرےبلکہ ایسا کرنا ان امور میں سے ہے جو حرام ہیں فتنہ کا باعث اورفواحش ومنکرات کے ظہورکا سبب ہیں۔صحیح حدیث سےثابت ہے کہ نبیﷺنے فرمایاہے کہ‘‘میں عورتوں سےمصافحہ نہیں کرتا۔’’اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکاہاتھ کبھی بھی کسی(غیرمحرم)عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا،آپؐ عورتوں سے بیعت زبانی لیا کرتےتھے۔’’

غیرمحرم عورتوں کے ساتھ مصافحہ کرنے سے یہ بات زیادہ قبیح ہے کہ انہیں بوسہ دیا جائے خواہ وہ چچایا پھوپھی کی بیٹیاں یا پڑوسی ہی کیوں نہ ہوں ،یہ حرام  ہے اوراس کی حرمت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے نیز حرام فواحش ومنکرا ت میں مبتلاہونے کایہ ایک بڑاذریعہ ہے ،لہذا مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس سے اجتناب کرے اوران تمام قریبی وغیر قریبی عورتوں کو جن کی یہ عادت ہو ،انہیں سمجھائے کہ یہ حرام ہے ،لوگ خواہ اس کے عادی بھی ہوں توپھر بھی کسی مسلمان مرد اورعورت کے لئے یہ جائز نہیں خواہ قریبی رشتہ داروں اورشہر میں بسنے والے لوگوں میں اس کا رواج ہی کیوں نہ ہو،اس کا سختی سے انکا ر کردینا چاہئے اورمعاشرہ کو اس سے اجتناب کی تلقین کرنی چاہئے ،ملاقات کے وقت عورتوں سے مصافحہ وبوسہ کے بجائے محض سلام وکلام ہی پر اکتفاکرنا چاہئے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص366

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ