سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(212) ایک آدمی نے وصیت کی کہ اس کے گھر کی آمدنی۔۔۔

  • 15407
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-22
  • مشاہدات : 832

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی فوت ہوااوراس نےیہ وصیت کی کہ اس کےایک گھرکی آمدنی سےاس کی طرف سےہرسال قربانی اورحج کیا جائے اوراگرہرسال ممکن نہ ہوتودوسرےسال کرلیا جائےاوراگرآمدنی قربانی اورحج کے خراجات سے زیادہ ہوتواسے نیکی کے دوسرے کاموں پر خرچ کردیا جائے۔سوال یہ ہے کہ کیا صیت کےمطابق حج کرنا لازم ہے؟حج کرنے والے توبہت لیکن دل مطمئن نہیں ہوتا کہ اس نے صحیح حج کیا ہے یا مادی منفعت کے حصول کے لے ،لہذا کیا یہ افضل نہیں ہے کہ اس مال کو حج کی بجائے دیگر نیک کاموں مثلا مسجدوں کے بنانے وغیرہ کے لئے صرف کردیا جائے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
واجب یہ ہے کہ وصیت کرنے والے کی وصیت کے مطابق ہی عمل کیا جائےاورپھر حج بھی تقرب الہی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے لہذا وکیل کو چاہئے کہ وہ کوشش کرکے ایسے آدمی کو حج پر بھیجے جوبظاہر نیک اورمتقی معلوم ہوتا ہواوراس کا مقصد حصول مال نہ  ہو بلکہ وہ تقرب الہی کے حصول کے لئے حج کرنا چاہتا ہو،دلوں کے بھید اللہ تعالی ہی جانتا ہے اوروہ انہی کے مطابق بدلہ دے گا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص331

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ