سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(209) حدیث‘‘من غشنافليس منا’’ اور امتحانات

  • 15404
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-22
  • مشاہدات : 611

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں ریاض کےایک کالج کاطالب علم ہوں اورمیں دیکھتاہوں کہ بعض طلبہ امتحانات میں کئی مضامین خصوصاانگریزی کےمضمون میں خیانت کرتےہیں اورجب میں اس سلسلہ میں ان سےبات کرتاہوں تووہ کہتےہیں کہ انگریزی زبان کےمضمون میں خیانت کرناحرام نہیں ہےکیونکہ بعض مشائخ نےیہی فتویٰ دیاہےامیدہےاس کام اوراس فتویٰ کےبارےمیں رہنمائی فرمائیں گے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
حدیث سےثابت ہےکہ رسول اللہﷺنےفرمایا‘‘جوشخص ہمیں دھوکادے،وہ ہم میں سےنہیں ہے۔’’یہ حدیث عام ہےکہ مواملات میں دھوکاہویاامتحانات میں سب کوشامل ہےاورامتحان خواہ انگریزی زبان کاہویاکسی اورمضمون کا،لہٰذااس حدیث اوراس کےہم معنی دیگراحادیث کےعموم کےباعث طلبہ وطالبات کےلئےہرگزجائزنہیں کہ وہ امتحان کےکسی بھی پرچہ میں دھوکااورخیانت سےکام لیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص330

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ