سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

مسجدمیں قبر بنانا

  • 154
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-16
  • مشاہدات : 1508

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی قبر مسجد میں ہے، جبکہ مسجد میں قبر کا ہونا جائز نہیں ہے، جب الولید نے مسجد کو وسیع کیا تھا، کیا کسی تابعی نے اس کام پر تنقید کی تھی۔؟ اگر ہاں تو حوالوں سے ثابت کریں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سوال کے دو حصے ہیں :

١۔ایک یہ کہ کیا اہل علم نے مسجد کی توسیع میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو شامل کرنے کو پسند کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ سلفی اہل علم نے اسے پسند نہیں کیا ہے کیونکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےاس فرمان کے خلاف ہے، جس میں یہ موجود ہے کہ انبیا کی قبروں کو مساجد نہ بنا لو۔

 شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

سوال:حديث ميں ہے كہ:" اللہ تعالى يہوديوں پر لعنت كرے انہوں نے اپنے انبياء كى قبروں پر مسجديں بنا ليں ..... الخ "مدينہ ميں مسجد نبوى كے اندر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى قبر ہونے كے بارہ ميں كيا كہا جائيگا ؟

الحمد للہ :

اس مسئلہ ميں پہلے اور آج بھى كلام كى جاتى رہى ہے، مساجد ميں قبريں بنانے يا مسجد ميں قبروں كو مسجد ميں داخل كرنے كو جائز كہنے والوں كا رد كيا گيا ہے، يہاں ہم اپنے بعض محقق علماء كرام كے فتاوى جات ذكر كرينگے، اس سوال ميں جو اشكال پيش كيا گيا اس ميں تفصيل ہے:

1 - شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" يہاں قبر پرست ايك شبہ كا شكار ہيں، وہ يہ كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى قبر مبارك مسجد نبوى ميں ہے۔

اس شبہ كا جواب يہ ہے كہ:

صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو مسجد ميں دفن نہيں كيا تھا، بلكہ انہيں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے حجرہ مبارك ميں دفن كيا گيا، اور جب وليد بن عبد الملك نے پہلى صدى كے آخر ميں مسجد نبوى كى توسيع كى تو حجرہ كو مسجد ميں شامل كر كے ايك برا كام كيا، اور بعض اہل علم نے اسے منع بھى كيا ليكن اس كا اعتقاد تھا كہ توسيع كى بنا پر ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں۔چنانچہ كسى بھى مسلمان شخص كو اس كا يہ عمل بطور حجت پيش كر كے قبروں پر مساجد تعمير كرنا جائز نہيں، يا پھر اسے حجت بنا كر مساجد ميں دفن كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ يہ صحيح احاديث كے مخالف ہے؛ اور اس ليے بھى كہ يہ قبر پرستى اور شرك كے وسائل ميں شامل ہوتا ہے" انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 5 / 388 - 389 )۔

2 - شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

قبر والى مسجد ميں نماز ادا كرنے كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" قبر والى مسجد كى دو قسميں ہيں:

پہلى قسم

مسجد تعمير ہونے سے قبل ہى وہاں قبر ہو، اس طرح كہ قبر پر مسجد بنا دى جائے، ايسى مسجد كو ترك كرنا اور وہاں نماز ادا نہ كرنا واجب ہے، اور جس نے اسے تعمير كيا ہو اس كے ليے اسے منھدم كرنا ضرورى ہے، اگر وہ ايسا نہيں كرتا تو مسلمان حكمران كو چاہيے كہ وہ اس مسجد كو منہدم كر دے۔

دوسرى قسم

قبر بننے سے قبل وہاں مسجد ہو، وہ اس طرح كہ مسجد تعمير كرنے كے بعد وہاں ميت دفن كى جائے، تو وہاں سے يہ قبر اكھاڑنا اور ميت كو وہاں سے نكال كر عام قبرستان ميں لوگوں كے ساتھ دفن كرنا واجب ہے۔اور ايسى مسجد ميں ايك شرط كے ساتھ نماز ادا كرنا جائز ہے، وہ يہ كہ قبر نمازى كے آگے يعنى قبلہ رخ نہ ہو، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قبروں كى جانب رخ كر كے نماز ادا كرنے سے منع فرمايا ہے۔

اور رہا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى قبر كا مسئلہ جو مسجد ميں آچكى ہے، يہ معلوم ہونا چاہيے كہ مسجد نبوى صلى اللہ عليہ وسلم نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات سے قبل تعمير كى گئى تھى اور يہ قبر پر نہيں بنائى گئى۔اور وليد بن عبد الملك كے دور ميں وليد نے مدينہ كے گورنر عمر بن عبد العزيز كو 88 ہجرى ميں مسجد نبوى گرا كر ازواج مطہرات كے حجرے بھى مسجد ميں شامل كرنے كا خط لكھا، چنانچہ عمر رحمہ اللہ تعالى نے بڑے بڑے لوگوں اور فقھاء كو جمع كر كے ان كے سامنے المومنين وليد بن عبد الملك كا خط پڑھا تو يہ خط انہيں بہت شاق لگا اور وہ كہنے لگے:اسے اپنى حالت ميں ہى رہنے دينا زيادہ باعث عبرت ہے، اور بيان كيا جاتا ہے كہ سعيد بن مسيب رحمہ اللہ تعالى نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كا حجرہ مسجد ميں داخل كرنا پسند نہيں كيا، اور اس سے منع كيا تھا، گويا كہ انہيں يہ خدشہ تھا كہ قبر كو سجدہ گاہ نہ بنا ليا جائے، چنانچہ عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ نے يہ سب كچھ وليد بن عبد الملك كو لكھ بھيجا، ليكن وليد نے انہيں پھر يہى حكم ديا تو عمر بن عبدالعزيز كو اسے نافد كرنے كے علاوہ كوئى اور چارہ نہ تھا۔آپ ديكھتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى قبر نہ تو مسجد ميں بنائى گئى اور نہ ہى قبر پر مسجد بنائى گئى، چنانچہ مسجد ميں قبر بنانے اور دفن كرنے والوں يا پھر قبروں پر مسجد بنانے والوں كے ليے اس ميں كوئى دليل اور حجت نہيں پائى جاتى۔

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ تعالى يہوديوں اور عيسائيوں پر لعنت كرے انہوں نے اپنے انبياء كى قبروں كو مسجديں بنا ليا "

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ اس وقت فرمايا تھا جبكہ آپ موت كى كشمكش ميں تھے، اور اپنى امت كو ان لوگوں كے عمل اور فعل سے ڈرانے اور بچنے كے ليے فرمايا:

اور جب ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا نے حبشہ ميں ديكھے ہوئے ايك كنيسہ كا ذكر نبى كريم صلى اللہ عليہ و سلم سے كيا جس ميں تصاوير اور مجسمے تھے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہ وہ لوگ ہيں جب ان ميں كوئى نيك اور صالح شخص فوت ہو جاتا تو اس كى قبر پر مسجد بنا ليتے، اللہ تعالى كے ہاں سب سے برى مخلوق يہى ہيں "

اور ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سب سے برے وہ لوگ ہيں جن پر قيامت قائم ہو گى اور وہ زندہ ہونگے، اور وہ لوگ جنہوں نے قبروں كو مسجديں بنا ليا "

اسے امام احمد نے جيد سند كے ساتھ روايت كيا ہے۔

اور مومن اس پر راضى نہيں ہوتا كہ وہ يہود و نصارى كے طريقہ پر چلے اور نہ ہى وہ اس پر راضى ہے كہ وہ سب سے برى اور شرير ترين مخلوق ميں شامل ہو۔

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 12 ) سوال نمبر ( 292 )۔

٢۔ جہاں تک اس قبر کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا معاملہ ہے تو یہ سدا للذریعہ جائز نہیں ہے یعنی اس میں فتنے کا اندیشہ ہے کیونکہ آپ کی قبر مبارک کو کھولنا خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات فتنے کے اندیشے سے ایک کام نہیں کیا جیسا کہ آپ نے بیت اللہ کو ابراہیمی بنیادوں پر فتنے کے اندیشے سے منتقل نہیں کیا تھا لہذا ہمارے خیال میں یہاں بھی ایسا کرنا سدا للذریعہ جائز نہیں ہے۔

 ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ