سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(50) مرض الموت میں وثیقہ ہبہ لکھنا

  • 15307
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-13
  • مشاہدات : 413

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال اول: ایک شخص نے مرض الموت میں اپنی ایک وثیقہ ہبہ بالعوض اپنی بعض اولاد کے نام سے لکھا اور بعض کو بالکل محروم رکھا۔ پس یہ ہبہ بالعوض بنام بعض اولاد کے صحیح ہوا یا نہیں؟

سوال دوم: اگر کسی شخص نے حالت مرض الموت میں بعض اولاد کو اپنے یا کسی غیر کو ہبہ بالعوض کیا تو یہ ہبہ اس واہب کے کل مال میں جاری ہوگا یا واہب کے ثلث مال میں؟ واہب نے اپنے کل مال کو بعض ورثا کو اپنے ہبہ کردیا اور بعض کو بالکل محروم کیا ہے۔

سوال سوم: ہبہ بالعوض میں قرآن شریف کا ہبہ کرنا صحیح ہوگا یا نہیں؟ 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جواب تینوں سوالوں کا کتب فقہ حنفیہ سے بقید مطبع و صفحہ کتاب کے دیا جائے۔

جواب اول: یہ ہبہ اگر باجازت باقی ورثا کے ہوا ہے تو صحیح ہوا، ورنہ صحیح نہیں ہوا۔ اس لیے کہ ہبہ بالعوض ایک فرد ہبہ ہے جو مرض الموت میں واقع ہوا ہے اور ہبہ جو مرض الموت میں واقع ہو، حکماً وصیت ہے۔ پس ہبہ مذکور حکماً وصیت ہے اور وصیت وارث کے لیے بلا اجازت ورثا صحیح نہیں ہے اور اولاد وارث ہے۔ پس ہبہ مذکور بغیر اجازت باقی اولاد اور اگر واہب کا کوئی اور بھی وارث ہو تو بغیر اجازت وارث مذکور صحیح نہیں ہے۔ (فتاویٰ قاضی خاں : ۴ / ۵۰۶ مطبوعہ کلکتہ)

‘‘ لا یجوز الوصیة للوارث عندنا إلا أن یجیزھا الورثة’’

‘‘ ہمارے نزدیک وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے، الا یہ کہ ورثا اس کی اجازت دیں۔’’

‘‘ لو وھب شیئاً لوارثه في مرضه ، أو أوصی له بشيء، أو أمر بتنفیذہ قال الشیخ الإمام أبوبکر محمد بن الفضل رحمه اللہ: کلاھما باطلان، فإن أجاز بقیةالورثة ما فعل، وقالوا: أجزنا ما أمر به المیت ینصرف الإجازة إلی الوصیة لأنھا مأمورة إلی الھبة ، ولو قال الورثة : أجزنا ما فعله المیت صحت الإجازة في الھبة والوصیة جمیعا‘‘ (أیضاً، ص:۵۱۲)

‘‘ اگر اس نے اپنے مرض میں اپنے کسی وارث کو کوئی چیز دیدی یا اس کے لیے کسی چیز کی وصیت کردی یا اس کے نفاذ کا حکم دے دیا تو اس سلسلے میں شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل نے فرمایا کہ دونوں چیزیں باطل ہیں اور اگر بقیہ ورثا اس کے اس فعل کی اجازت دے دیں اور یہ کہہ دیں کہ میت نے جس چیز کا حکم دیا ہے، ہم نے اس کی اجازت دی تو یہ اجازت وصیت کی جانب لوٹ آئے گی، کیونکہ اس کو ہبہ کرنے کی اجازت ہے اور اگر ورثا نے یہ کہا کہ میت نے جو کچھ کیا ہے، ہم نے اس کی اجازت دی تو اجازت، وصیت اور ہبہ سب کے لیے درست ہوگی۔’’

‘‘ إذا أقر مریض لامرأة بدین، أو أوصی لھا بوصیة، أو وھب لھا ھبة، ثم تزوجھا، ثم مات، جاز الإقرار عندنا، وبطلت الوصیة والھبة۔’’ (فتاوی عالمگیری: ۶/ ۱۶۸، مطبوعہ کلکتہ)

‘‘ جب مریض کسی عورت کے قرض کا اقرار کرے یا اس کے لیے کوئی وصیت کرے یا اس کو کوئی ہبہ دے، پھر اس سے شادی کرلے اور پھر مر جائے تو ہمارے نزدیک اس کا یہ اقرار جائز ہے اور وصیت اورہبہ باطل ہے۔’’

‘‘ وتبطل ھبة المریض ووصیة لمن نکحھا بعدھما أي بعد الھبة والوصیة، لما تقرر أنه یعتبر لجواز الوصیة کون الموصی لھا وارثا أو غیر وارث وقت الموت لا وقت الوصیة’’ (الدرالمختار برحاشیه طحطاوی: ۴/ ۲۱۹ مطبوعه مصر)

‘‘ مریض کا ہبہ اور اس کی وصیت اس کے لیے، جس سے اس نے نکاح کیا ہے، ہبہ اور وصیت کے بعد باطل ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ بات طے ہے کہ وصیت کے جواز کا اعتبار اسی وقت ہوتا ہے جبکہ وصیت کرنے والے کا کوئی وارث ہو یا نہ ہو، موت کے وقت نہ کہ وصیت کے وقت۔’’

قوله : ‘‘ وتبطل ھبة المریض ووصیته الخ’’ أما الوصیة فلأنھا إیجاب مضاف إلی بعد الموت، وھي وارثته حینئذ، والوصیة للوارث باطلة بغیر إجازة، وأما الھبة وإن کانت منجزة صورة فھي کالمضافة إلی ما بعد الموت حکماً لأنھا وقعت موقع الوصایا ولأنھا تبرع، یتقرر حکمه عند الموت، واللہ تعالی أعلم’’ (طحطاوی: ۴ / ۲۱۹، مطبوعہ مصر)

‘‘ مریض کا ہبہ اور اس کی وصیت باطل ہے، الخ۔ رہی وصیت تو یہ ایسی چیز ہے جو موت کے بعد منسوب کی جاتی ہے اور اس وقت وہ اس کی وارثہ ہوتی ہے اور بغیر اجازت کے وارث کے لیے وصیت باطل ہوتی ہے اور رہا ہبہ والا معاملہ جو اگرچہ صورت کے اعتبار سے الگ ہے تو یہ بھی حکماً موت کے بعد منسوب کی جاتی ہے، کیونکہ وصیت کے موقع پر یہ واقع ہوئی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ ایک نفلی چیز ہے، جس کا حکم موت کے وقت مقرر ہوتا ہے۔’’

جواب سوال دوم: اگر واہب نے یہ ہبہ اپنے بعض اولاد یا کسی دیگر وارث کو کیا ہے تو ہبہ مذکور بغیر اجازت بقیہ ورثہ باطل و ناجائز ہے۔ نہ یہ ہبہ واجب کے کل مال میں جاری ہوگا اور نہ ثلث مال میں، جیسا کہ جواب سوال اول سے واضح ہوا۔ اور اگر واہب نے یہ ہبہ کسی غیر وارث کو کیا ہے تو در صورت عدم کل مال میں۔ اس لیے کہ ہبہ مذکورہ حکماً وصیت ہے، جیسا کہ جواب سوال اول میں مذکور ہوا اور وصیت بلا اجازت ورثا صرف ثلث مال میں جاری ہوتی ہے نہ کل مال میں نہ زائد از ثلث میں۔

‘‘ تصح الوصیة لأجنبي من غیر إجازة الورثة کذافي التبیین۔ ولا یجوز بما زاد علی الثلث، إلا أن یجیزہ الورثة بعد موته وھم کبار الخ کذافي الھدایة’’ (فتاوی عالمگیری، مطبوعہ کلکتہ، جلد۶، صفحہ ۱۳۹)

‘‘ ورثا کی اجازت کے بغیر اجنبی شخص کے لیے وصیت درست ہے۔ ‘‘التبیین’’ میں ایسا ہی ہے۔ البتہ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ ورثا اس کی موت کے بعد اس کی اجازت دے دیں اور وہ بڑے لوگ ہوں الخ۔ الہدایہ میں ایسا ہی لکھا ہے۔’’

‘‘ ویجوز بالثلث للأجنبي عند عدم المانع وإن لم یجز الوارث ذلک، لا الزیادة علیه إلا أن یجیز ورثته بعد موته۔ واللہ تعالی أعلم’’ (الدرالمختار برحاشیه طحطاوی: ۴/ ۳۱۵، مطبوعہ مصر)

‘‘ اور اجنبی کے لیے ایک تہائی کی وصیت اس وقت جائز ہے جبکہ کوئی مانع نہ ہو، اگرچہ وارثین اس کی اجازت نہ دیں۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے الا یہ کہ اس کے ورثا اس کی موت کے بعد اس کی اجازت دے دیں۔’’

جواب سوال سوم: ہبہ بالعوض میں بالخصوص قرآن مجید کو عوض میں دینا تو کتب فقہ حنفیہ میں میری نظر سے نہیں گزرا ہے، لیکن کتب فقہ حنفیہ میں یہ امر مصرح ہے کہ ہبہ بالعوض میں عوض شے یسیر بھی کافی ہے اور شے یسیر میں قرآن مجید بھی داخل ہے۔

‘‘ یصح التعویض بشيء یسیر أو کثیر’’ (فتاویٰ قاضی خان: ۴ / ۱۸۷، مطبوعه کلکته)

‘‘ عوض میں تھوڑی یا زیادہ چیز دینا درست ہے۔’’ (فتاویٰ عالمگیری: ۴/ ۵۵۱، مطبوعہ کلکتہ)

‘‘ ولو عوض عن جمیع الھبة قلیلا کان العوض أو کثیرا فإنه یمنع الرجوع’’
‘‘ اگر کسی نے سارے ہبہ کے عوض میں کوئی تھوڑی چیز دے دی ہے تو عوض چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ، اس کا لوٹانا ممنوع ہے۔’’ واللہ تعالیٰ اعلم۔ کتبہ (فتاویٰ کے قلمی نسخے میں اس کے بعد کسی کا نام تحریر نہیں، مگر چونکہ یہ تمام جوابات مولانا شمس الحق عظیم آبادی کے خط سے لکھے ہوئے ہیں، اس لیے کوئی شک نہیں کہ مجیب وہی ہیں)۔ [ع،ش] 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مجموعہ مقالات، و فتاویٰ

صفحہ نمبر 268

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ