سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(44)مفقود الخبر کی بیوی کے نکاح کے بارے میں شریعت کا حکم

  • 15301
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-13
  • مشاہدات : 460

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مفقود الخبر کی بیوی کے نکاح کے بارے میں شریعت کا حکم


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شادی شدہ عورت سے نکاح کی حرمت نقل صریح سے ثابت ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ  ﴾ ( النساء: ۲۴)

یعنی تم پر وہ عوررتیں بھی حرام ہیں جو شادی شدہ ہوں خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، شوہر سے جدائی کے بغیر ان سے نکاح جائز نہیں الا یہ کہ قید کرنے کے بعد لونڈی بنالی گئی ہو۔

حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے شانِ نزول میں مسند احمد کی ایک حدیث نقل کی ہے، جس میں ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ غزوہ اوطاس میں ہم نے کفار کی بہت سی عورتیں قید کیں، مگر چونکہ ان کے شوہر موجود تھے، اس لیے انھیں ہاتھ لگانا ہم نے پسند نہ کیا۔ جب رسول اللہﷺ سے ہم نے اس کے متعلق دریافت کیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی، پھر وہ ہمارے لیے حلال ہوگئیں۔ یہ حدیث مسلم، ابوداود، نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ۳ ؍۴۲۵)

شادی شدہ عورت سے نکاح کی حرمت پر پوری امت کا اتفاق ہے اور چونکہ مفقود الخبر کی بیوی بھی شوہر والی ہے، اس لیے اصل یہ ہے کہ اس سے نکاح بھی حرام ہو۔

کتاب و سنت کے واضح اور قطعی دلائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ نکاح ہی سے حقوقِ زوجیت، نفقہ، وراثت اور دیگر احکام ثابت ہوتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور انہیں تکلیف نہ دینے کی تعلیم دی ہے اور کسی طرح کی تکلیف یا ضرر پہنچانے سے روکا ہے۔ نکاح یا زوجیت سے نکلنے کی تین صورتیں شریعت سے ثابت ہیں: طلاق ، فسخِ نکاح اور موت۔ اس کے ساتھ ایسی صورت پیش آئے یا اس کے پاس نان نفقہ کے لیے کچھ نہ ہو تو اسے روکے رہنا اور جبراً اسے اپنے شوہر کی زوجیت میں باقی رکھنا اس کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ خصوصاً جب کہ شوہر طویل مدت سے غائب ہو اور عورت بغیر نکاح کے تکلیف محسوس کرے تو یہ فسخ کی ایک معقول وجہ ہوگی اور اس صورت میں نکاح فسخ کرنا مناسب ہوگا۔ کیونکہ کتاب و سنت میں عورتوں کو تکلیف پہنچاتے ہوئے روکے رہنے سے کئی جگہ واضح طور پر ممانعت آئی ہے۔ لہٰذا اس عورت سے ہر ممکن طریقے پر تکلیف دور کرنا جائز بلکہ واجب ہے، خواہ اس کے لیے فسخ کی ضرورت ہی کیوں نہ پیش آئے۔ مفقود الخبر کی بیوی میں ضرر کی مختلف صورتیں پائی جاتی ہیں ، اس لیے اگر وہ شرعی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کرنا چاہے تو جائز ہے اور قاضی کو چاہیے کہ وہ اسے ضرر اور تکلیف سے نجات دلائے۔ یہ طریقہ اس صورت میں اختیار کرے گی جبکہ اسے اس کے مفقود الخبر شوہر نے نان و نفقہ دے رکھا ہو اور اسے اس لحاظ سے تو پریشانی نہ ہو، مگر بغیر شوہر کے رہنا اس کے لیے دشوار ہو اور اگر ایسی ضرورت پیش آئے کہ نان و نفقہ کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہو تب تو یہی ایک وجہ نکاح فسخ کرانے کے لیے کافی ہے۔ خواہ شوہر موجود ہو یا مفقود الخبر۔ مختلف آیات اور احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک حدیث : ’’اسلام میں ضرر و تکلیف خود سہنا ہے نہ دوسرے کو پہنچانا۔‘‘ مشہور ہے، جو حضرت ابن عباس، عبادۃ بن صامت، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابولبابہ، ثعلبہ بن مالک، جابر، عائشہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ (مسند أحمد ۱ ؍۳۱۳ ) ، (اس کے بعد مولانا نے ہر ایک کی حدیث نقل کرنے کے بعد اس کی تحقیق کی ہے۔ خالص فنی بحث ہونے کی وجہ سے یہاں اس کا ترجمہ کرنا عام قارئین کے لیے زیادہ مفید نہیں معلوم ہوتا۔ اہل علم اصل ماخذ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔ ) [ع، ش] 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مجموعہ مقالات، و فتاویٰ

صفحہ نمبر 238

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ