سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(42)عورت کا اپنا حق مہر معاف کردینا

  • 15299
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-13
  • مشاہدات : 510

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت نے حالتِ صحت میں فیما بینھا وبین اللہ خاوند کو اطلاع دے کر اپنا مہر بخشش دیا، مگر اپنے اقارب کے خوف سے اظہار نہ کیا۔ آخر وہ جب بیمار ہوئی تو حالتِ بیماری میں چند گواہوں کے رو برو اپنے واقعہ سابقہ کا ذکر کرکے تحریر لکھوا دیا کہ میں بحالتِ صحت مہر معاف کر چکی ہوں۔ کیا اس صورت میں مسماۃ مذکورہ کا یہ کہنا اور معاف کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور واضح رہے کہ مسماۃ مذکورہ کے ورثاء نسبی بھی ہیں اور ایک لڑکی نابالغ اور ایک خاوند مذکور۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت میں مسماۃ مذکورہ کا بحالت صحت میں فیما بینھا وببین اللہ اپنا مہر معاف کردینا جائز و درست ہے اور بحالت مرض اس کا یہ اقرار کرنا کہ میں بحالت صحت معاف کرچکی ہوں، بھی جائز و درست ہے۔

﴿ فَإِن طِبنَ لَكُم عَن شَىءٍ مِنهُ نَفسًا فَكُلوهُ هَنيـًٔا مَريـًٔا ﴿٤﴾...النساء

’’ ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھاؤ۔‘‘

صحیح بخاری مصری جلد (۳) صفحہ (۷۹) میں ہے:

’’ قال الحسن  : أحق ما یصدق به الرجل آخر یوم من الدنیا وآخر یوم من الآخرة ، وقال إبراھیم والحکم: إذا أبرأ الوارث من الدین بریٔ ، قال الشعبي : إذا قالت المرأۃ عند موتھا  : إن زوجي قضاني وقضیت منه جاز، وقد قال النبيﷺ : إیاکم والظن فإن الظن أکذب الحدیث‘‘ انتھی (صحیح البخاري ۳ ؍۱۰۰۸)

’’ حسن نے کہا: سب سے بڑا سچ وہ ہے جو آدمی دنیا کے آخری وقت میں کہے اور آخرت کے آخری دن میں۔ ابراہیم اور حکم نے کہا ہے: جب وارث قرض سے بری کردے تو وہ بری ہو جاتا ہے اور شعبی نے کہا ہے: جب عورت نے اپنی موت کے وقت کہا کہ میرے شوہر نے میرے ساتھ معاملہ پورا کیا اور میں نے اس کے ساتھ تو جائز ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ گمان کرنا سب سے جھوٹی بات ہے۔‘‘

’’ وفي فتح الباري جلد ۴ صفحة ۲۵: و ’’ احتج من أجاز مطلقا بما تقدم عن الحسن أن التھمة في حق المحتضر بعیدة ، وبالفرق بین الوصیة والدین، لأنھم اتفقوا علی أنه لو أوصی في صحته لوارثه بوصیة، وأقر لہ بدین ثم رجع، أن رجوعه من الإقرار لا یصح، بخلاف الوصیة فیصح رجوعه عنھا ، واتفقوا علی أن المریض إذا أقر لوارث صح إقراره مع أنه یتضمن له بالمال، وبأن مدار الأحکام علی الظاھر، فلا یترک إقرارہ للظن المحتمل فإن أمرہ فیه إلی اللہ تعالیٰ‘‘ (فتح الباري لا بن حجر ۵ ؍۳۷۶)
’’ حسن کے مذکورہ اثر کی بنا پر دلیل پکڑی ہے کہ یہ مطلق جائز ہے، کیونکہ محتضر کے حق میں تہمت بعید ہے اور اس لیے بھی کہ وصیت اور قرض کے مابین فرق ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اس نے اپنی صحت کی حالت میں اپنے وارث کے لیے کوئی وصیت کی ہے یا اس کے کسی قرض کا اقرار کیا ہے، پھر اس نے رجوع کرلیا تو اقرار سے رجوع درست نہیں ہے بخلاف وصیت کے، کیونکہ یہاں رجوع درست ہے۔ اور اس بات پر بھی ان کا اتفاق ہے کہ مریض جب کسی وارث کے لیے اقرار کرلے تو اس کا اقرار درست ہوگا، باوجود اس کے کہ وہ اس کے لیے مال کا متضمن ہو اور اس لیے بھی کہ حکم کا مدار ظاہر پر ہوتا ہے اور ظن محتمل کی بنیاد پر اس کا اقرار ترک نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس معاملے میں اس کا معاملہ اللہ کی جانب ہے۔‘‘
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مجموعہ مقالات، و فتاویٰ

صفحہ نمبر 233

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ