سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(20)ایک مقتدی اکیلا صف میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

  • 15208
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-12
  • مشاہدات : 270

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مقتدی اکیلا صف میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور نہیں درست ہو تو اگلی صف کے کنارہ سے کسی مقتدی کو پیچھے لے لے یا بیچ میں سے یا جہاں سے چاہے اور اگلی صف میں جو ایک آدمی کی جگہ گالی ہوئی ہے، وہ خالی ہی رہے یا اس کے بائیں یا دائیں کے مقتدی سرک سرک کر اس کو بھر دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک مقتدی تنہا صف میں نماز نہیں پڑھ سکتا: ( فتاویٰ غازی پوری، قلمی ص: ۶۹)

عن على بن شیبان أن رسول اللہ ﷺ رأی رجلا یصلى خلف الصف فوقف حتی انصرف الرجل، فقال له : (( استقبل صلاتک، فلا صلاة لمنفرد خلف الصف )) رواہ أحمد و ابن ماجه  (مسند أحمد ۴؍۲۳ سنن ابن ماجه، رقم الحدیث ۱۰۰۳)

’’ علی بن شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صف کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ٹھہر گئے، حتی کہ وہ فارغ ہوگیا تو آپﷺ نے اسے فرمایا: دوبارہ نماز پڑھو، کیوں کہ صف کے پیچھے اکیلے شخص کی نماز نہیں ہوتی۔‘‘

’’ وعن وابصة بن معبد أن رسول اللہ ﷺ رأی رجلا یصلى خلف الصف وحدہ فأمرہ أن یعید صلاته ‘‘ رواہ الخمسة إلا النسائى  (سنن أبى داود، رقم الحدیث ۶۸۲ سنن الترمذى، رقم الحدیث ۲۳۱ سنن ابن ماجه، رقم الحدیث ۱۰۰۳ مسند أحمد ۴؍ ۲۲۸)

’’ وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صف کے پیچھے ایک شخص کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسے دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔‘‘

وفى روایة: سئل رسول اللہ ﷺ عن رجل صلیٰ خلف الصفوف وحدہ، فقال : (( یعید الصلاة )) رواہ أحمد، نیل: ۳؍۶۱ (مسند أحمد ۴؍ ۲۲۸)

’’ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ سے ایک شخص کے متعلق پوچھا گیا، جس نے صفوں کے پیچھے اکیلے نماز پڑھی ہے تو فرمایا: وہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔‘‘

اگر صف میں جگہ نہ ہو تو بیچ صف میں سے ایک مقتدی کو کھینچ لے اور اس خالی جگہ کو کسی طرف کے مقتدی سرک سرک کر بھر دیں، اور داہنے یا بائیں کی قید حدیثوں سے معلوم نہیں ہوتی۔

عن أبى ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ : (( وسطوا الإمام، وسدوا الخلل)) رواہ أبوداود (سنن أبى داود، رقم الحدیث (۶۸۱) اس کی سند ضعیف ہے، کیوں کہ اس کی سند میں یحییٰ بن بشیر اور ان کی والدہ مجہول ہیں۔ دیکھیں: تمام المنۃ للألباني ص: ۲۸۴)

’’ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام کو درمیان میں رکھو اور صفوں کے درمیان خلا کو پُر کرو۔‘‘

حررہ: أبو الطیب محمد شمس الحق العظیم آبادي، عفی عنہ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مجموعہ مقالات، و فتاویٰ

صفحہ نمبر 114

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ