سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(10)مسئلہ تکفیرِ مرزا غلام احمد قادیانی کی تائید

  • 15194
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-12
  • مشاہدات : 382

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ تکفیرِ مرزا غلام احمد قادیانی کی تائید (عربی فتوے کا اُردو ترجمہ): (دیکھیں: ’’پاک و ہند کے علمائے اسلام کا اولین متفقہ فتوی‘‘ (ص ؛ ۱۵۷، ۱۵۸) دارالدعوۃ السّلفیہ لاہور۔ 


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ تکفیرِ مرزا غلام احمد قادیانی کی تائید (عربی فتوے کا اُردو ترجمہ): (دیکھیں: ’’پاک و ہند کے علمائے اسلام کا اولین متفقہ فتوی‘‘ (ص ؛ ۱۵۷، ۱۵۸) دارالدعوۃ السّلفیہ لاہور۔ 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ابو الطیب محمد شمس الحق کہتا ہے کہ مجھے اس رسالے کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا، جس کو ہمارے شیخ و شیخ الاسلام والمسلمین مولانا سید نذیر حسین صاحب۔ دام اللہ فیوضہ۔ نے تحریر کیا ہے۔ اس کو میں نے حق کے مطابق پایا۔ پھر حق کے سوا بجز گمراہی کیا متصور ہے؟ اس میں شک نہیں کہ قادیانی نے مذہبِ الحاد اختیار کیا ہے، نصوصِ کتاب و سنت کو اپنی جگہ سے پھیرا ہے اور وہ باتیں بولا ہے جس پر کوئی مسلمان بجز اقوام غیر جرأت نہیں کرسکتا۔ خدا اس کے شر اور وساوس اور جادو سے مسلموں کو بچائے۔ خداوند تعالیٰ ہمارے شیخ سے راضی ہو، جنھوں نے اسلام سے جملہ مخالفین کی مدافعت کی اور اس کی مدد کی۔ پھر خدا تعالیٰ مولوی ابو سعید محمد حسین لاہوری اور مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی کو جزائے خیر دے کہ انھوں نے اس مفتری کذاب سے مقابلہ کیا اور حق کو ظاہر اور اس کو لاجواب کردیا۔ اس کو جواب کی طاقت نہیں ہوئی تو ان کے مقابلے سے جنگلی گدھوں کی طرح بھاگ ہی گیا۔ ( اس رسالے سے مراد وہ فتویٰ تکفیر ہے جو مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ نے مرزا غلام قادیانی کے عقائد و نظریات کی بابت میاں صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کیا اور میاں صاحب نے قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں مرزائی عقائد کو الحاد و زندقہ قرار دیا۔ بعد ازاں مولانا بٹالوی رحمہ اللہ نے مذکورہ فتوے پر ملک بھر کے دو صد علما کی تصدیقات حاصل کیں اور اسے شائع کیا۔ مرزا غلام قادیانی نے بھی اس فتوے کا اپنی کئی کتب میں ذکر کیا ہے، مثلاً دیکھیں: روحانی خزائن ۱۶؍ ۴۳۸)

العبد

ابو الطیب محمد شمس الحق 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مجموعہ مقالات، و فتاویٰ

صفحہ نمبر 94

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ