سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(3)اللہ کے علاوہ کسی غیر میں علم غیب کا اعتقاد رکھنا

  • 15187
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-12
  • مشاہدات : 312

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوائے خدا کے آنحضرت ﷺ کے لیے یا اور کسی نبی یا ولی وغیرہ کے لیے علم غیب اور ہر جگہ حاضر ناظر ہونا ثابت ہے یا نہیں؟ اور در صورت نہ ہونے کے جو شخص سوائے خدا کے کسی نبی یا ولی وغیرہ کے لیے علم غیب اور ہر جگہ حاضر ناظر ہونا ثابت کرے از روئے قرآن و حدیث کے اس پر کیا حکم ہوگا؟ 


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوائے خدا کے آنحضرت ﷺ کے لیے یا اور کسی نبی یا ولی وغیرہ کے لیے علم غیب اور ہر جگہ حاضر ناظر ہونا ثابت ہے یا نہیں؟ اور در صورت نہ ہونے کے جو شخص سوائے خدا کے کسی نبی یا ولی وغیرہ کے لیے علم غیب اور ہر جگہ حاضر ناظر ہونا ثابت کرے از روئے قرآن و حدیث کے اس پر کیا حکم ہوگا؟ 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علم غیب اور حضوری ہر جا کی مخصوص ہے ساتھ اللہ تعالیٰ کے۔ سوائے اس کے اور کسی میں ، خواہ نبی ہوں یا ولی، یہ وصف حاصل نہیں اور جو اعتقاد ان چیزوں کا ساتھ غیر خدا تعالیٰ کے رکھے، وہ مشرک ہے۔

حق تعالیٰ سورۂ انعام میں فرماتا ہے:

﴿وَعِندَهُ مَفاتِحُ الغَيبِ لا يَعلَمُها إِلّا هُوَ ...﴿٥٩﴾...الأنعام

یعنی اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی، نہیں جانتا ان کو مگر وہی۔

اور سورۂ نمل میں فرمایا:

﴿قُل لا يَعلَمُ مَن فِى السَّمـٰوٰتِ وَالأَرضِ الغَيبَ إِلَّا اللَّـهُ ۚ وَما يَشعُرونَ أَيّانَ يُبعَثونَ ﴿٦٥﴾...النمل

یعنی کہو نہیں جانتے جتنے لوگ ہیں آسمانوں میں اور زمین میں غیب کو مگر اللہ، اور نہیں خبر رکھتے وہ کہ کب اٹھائے جائیں گے۔

علامہ محمد بن محمد کردری ’’ فتاویٰ بزازیہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ من قال : أرواح المشایخ حاضرۃ تعلم، یکفر ‘‘ انتھی (الفتاویٰ البزازیة (۶؍۳۲۶) البحر الرائق لابن نجیم الحنفى المصرى ۵؍۱۳۴)

’’ جو کہے مشائخ کی روحیں حاضر ہیں اور علم رکھتی ہیں تو وہ کافر ہو جائے گا۔‘‘

علامہ سعد الدین ’’ شرح عقائد نسفی‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ فبالجملة : العلم بالغیب أمر تفرد به الاه سبحانه لا سبیل الیه للعباد‘‘ انتھی (شرح العقائد النسفیة لسعد الدین التفتازانى ص:۱۲۲)

’’ بالجملہ غیب کا علم ایسا معاملہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ یکتا و تنہا ہے، اس میں بندوں کا کوئی گزر نہیں۔‘‘

مولانا قاری ’’ شرح فقہ اکبر‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ اعلم أن الأنبیاء لم یعلموا المغیبات من الأشیاء إلا ما أعلمھم الله أحیانا، وذکر الحنفیة تصریحا بالتکفیر باعتقاد أن النبى ﷺ یعلم الغیب، لمعارضة قوله تعالیٰ  : قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا الله وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ  (النمل: ۶۵) انتھی۔ (شرح الفقه الأکبر للملا على القارى ص:۴۲۲)

’’ جان لو کہ انبیا غیب میں سے کچھ بھی نہیں جانتے تھے، سوائے ان چیزوں کہ جنھیں اللہ تعالیٰ انھیں کبھی کبھی بتا دیتا۔ احناف نے صراحت کے ساتھ اس شخص کی تکفیر کی ہے جو اس بات کا اعتقاد رکھتا ہو کہ نبی ﷺ غیب جانتے تھے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے خلاف ہے کہ ’’ اے نبیﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘

اور اسی طرح علامہ بیری نے حاشیہ ’’ شرح الأشباہ والنظائر‘ ‘ میں تصریح کی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مجموعہ مقالات، و فتاویٰ

صفحہ نمبر 84

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ