سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(17) تقدیر کو گالی دینے کی ممانعت

  • 15146
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-11
  • مشاہدات : 306

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تقدیر کو گالی دینے  کی ممانعت

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میں نے اخبار‘‘الریاض’’شمارہ نمبر۴۸۸۷ مجریہ ۱۷ رمضان ۱۴۰۱ ہجری

‘‘معاشرتی کہانی’’کے مستقل گوشہ میں‘‘تقدیر کی سختی ’’کے زیرعنوان ایک مضمون دیکھا جو قماشہ ابراہیم کے قلم سے ہے،اس میں مضمون نگارنے یہ بھی لکھا ہےکہ ‘‘یہ زندگی ہم اس طرح بسر کررہے ہیں گویا ہمارے کوئی حقوق نہیں ہیں ،ہم اس طرح رہ رہے ہیں کہ تقدیر ہماری عمروں کے ساتھ کھیل رہی ہے ،حتی کہ تقدیر ان سے اکتا جاتی ہے توانہیں اٹھا کر ایک دوسرے جہان میں پھینک دیتی ہے،تقدیر کبھی تو ہمارے آنسووں کے ساتھ کھیلتی ہے  اورکبھی ہماری مسکراہٹوں کے ساتھ۔’’

یہ کلام  کمال توحید اورتقدیر کے ساتھ کمال ایمان کے منافی ہے کیونکہ تقدیر نہیں کھیلتی اورزمانہ کوئی عبث کام نہیں کرتا کیونکہ اس زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے،وہ

اللہ سبحانہ وتعالی کی مقررکردہ تقدیر اوراس کے علم کے مطابق ہوتا ہے،

اللہ سبحانہ وتعالی ہی رات دن کو پھیرتا ہے اوروہی اپنی حکمت کے تقاضا کے مطابق سعادت اورشقاوت کا فیصلہ کرتا ہے اوریہ حکمت بسا اوقات لوگوں سے مخفی بھی رہتی ہے کیونکہ ان کا علم محدود ہے اوران کی عقلیں اس بات سے قاصر ہیں کہ وہ حکمت الہی کا ادراک کرسکیں ۔اس کائنات کی ہرچیز کو اللہ تعالی نے پید ا فرمایا ہے اور اپنی مشیت وقدرت کے مطابق پیدا فرمایا ہے،اس نے جو چاہا وہ ہوا اورجو نہ چاہا وہ نہیں ہوا ،وہ دیتا اورمنع کرتا ہے ،وہی تہہ وبالاکرتا ہے،وہی عزت وذلت سے نوازتا ہے ،وہی غنی وفقیر کرتا ہے ،وہی ضلالت وہدایت سے ہمکنار کرتا ہے،وہی سعادت وشقاوت سے نوازتا ہے،وہ جس کو چاہتا ہے حکومت عطاکرتا ہے اورجس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔اس نے ہر چیز کو بہت احسن انداز میں پیدافرمایا ہے۔خالق کے تمام افعال ،اوامراورنواہی حکمت بالغہ پر مبنی ہیں اوران کے اغراض ومقاصد بےحد قابل ستائش ہیں،جن پر اللہ تعالی کا شکر بجالاناچاہئے خواہ قصورفہم کی وجہ سے انسان ان اغراض ومقاصد کا ادراک نہ بھی کرسکے۔صیح بخاری ،صیح مسلم اوردیگر کتب میں یہ حدیث موجود ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ‘‘ابن آدم مجھے ایذاءپہنچاتا ہے جب وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ تو میں ہوں ،میرے ہاتھ میں امر ہے ،میں ہی رات دن کو پھیرتا ہوں۔’’ایک اورروایت میں الفاظ یہ ہیں کہ ‘‘ابن آدم کو یہ نہیں کہنا چاہئے ،‘‘ہائے زمانے کی محرومی!کیونکہ میں زمانہ ہوں رات دن کو بھیجتاہوں اورجب چاہوں گا ان کو روک لوں گا۔’’

زمانہ جاہلیت میں عربوں میں یہ رواج تھا کہ انہیں جو آلام ومصائب پیش آتے ،وہ انہیں زمانے کی طرف منسوب کردیتے اور کہتے کہ‘‘انہیں حوادث ہرپہنچ گئے ہیں،انہیں زمانے نے تباہ  بربادکردیا ہے ۔’’وہ شدائد ومشکلات پیدا کرنے والے کو گالی بھی دیتے تھے تو یہ گالی گویا اللہ تعالی کو دیتے کیونکہ درحقیقت تمام امورکا فاعل تووہی ہے ،لہذا انہیں منع کردیا گیا کہ زمانے کو گالی نہ دو،اس حدیث کے یہی معنی امام شافعی ،ابوعبید ،ابن جریر ،بغوی اورکئی ائمہ کرام رحھم اللہ تعالی علیہم سے منقول ہیں۔

اقلب اللیل والنھار‘‘میں  رات دن کو پھیرتا ہوں۔’’کہ معنی یہ ہیں کہ رات دن میں جو بھی خیر وشر رونما ہوتا ہےوہ صرف اللہ کے ارادہ ،تدبیر ،اورعلم وحکمت سے ہوتا ہے اوراس میں اس کا کوئی سہیم وشریک نہیں۔وہ جو چاہتا ہے صرف وہ ووہی ہوتا ہےاورجو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا،لہذا واجب  ہےکہ دونوں حالتوں میں اس کی تعریف کی جائے ،اس کے ساتھ حسن ظن رکھا جائے اورتوبہ وانابت کے ساتھ صرف اسی کی طرف رجوع کیا جائے ،ارشادباری تعالی ہے: ونبلو...ترجعون

‘‘اورہم تم لوگوں کو سختی اورآسودگی میں آزمائش کے طورپرمبتلاکرتے ہیں اورتم ہماری طرف ہی لوٹ کرآوگے’’

امام مجدد محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ نے‘‘  کتاب التوحید’’میں ایک باب قائم کیا ہے،جس کا  نام ہے باب من سب الدھرفقدآذی اللہ‘‘جب کسی نے زمانے کو گالی دی ،اس نے اللہ تعالی کو ایزاء پہنچائی ۔’’اس باب میں آپ نے مذکورہ بالاحدیث ذکرکرکےفرمایا ہےکہ یہ حسب ذیل کئی مسائل پر مشتمل ہے:

۱۔  زمانےکوگالی دینے کی ممانعت کی گئی ہے۔

۲۔  زمانےکوگالی دینےاللہ تعالی کو ایذاءپہنچانارکھاگیا ہے۔

۳۔ فان اللہ  ھوالدھر پر غورکرنا چاہئے۔

۴۔انسان بسااوقات دشنام طرازہوتا ہے،خواہ وہ دل سے اس کا قصد نہ بھی کرے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس مضمون نگار خاتون نے،اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے۔۔۔عنوان قصہ میں زمانے کی طرف سختی کو منسوب کرکے غلطی کی ہے کیونکہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے تقدیر تصرف نہیں کرتی بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے ساتھ تمام اشیاء کا اندازہ مقررفرما رکھا ہے اوراللہ سبحانہ ،کی طرف سے قساوت کو بھی منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ وہ تواپنے بندوں کے ساتھ رحم فرمانے والا ہے ،ماں بھی اپنے بچے پر اس قدر شفقت نہیں کرتی جس قدر اللہ تعالی اپنے بندوں پر رحمت فرماتا ہے لہذا واجب ہے کہ ہم اپنے قلم کو اس طرح کی  لغزشوں سے بچائیں تاکہ اللہ تعالی اوراس کے رسول ﷺ کے ارشادات کی تعمیل ہو،توحید کی تکمیل ہو اوراس چیز سے ہم اجتناب کریں جو توحید یا کمال توحید کے منافی ہواورجیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں،ذرائع ابلاغ کا حلقہ بہت وسیع ہے اورلوگ اس سے متاثر بھی بہت ہوتے ہیں لہذا اگرہم اس طرح کے الفاظ استعمال کریں گے تووہ لوگوں میں عام ہوجائیں گے اوروہ انہیں بے محابا استعمال کرنے لگیں گے،خاص طور پر نسل نو ان کے استعمال میں احتیاط سے کام نہیں لے گی، لہذا اس طرح کے الفاظ کو استعمال کرنے سے احتیاط کرنی چاہئے۔

ہم اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے اورقلم اورزبان کی لغزشوں سے محفوظ رکھے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص143

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ