سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(53) بیماری کی وجہ سے پیشاب کے قطرے کپڑوں کو لگنا اور پھر اس میں نماز پڑھنا

  • 1509
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-16
  • مشاہدات : 3166

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کسی آدمی کو پیشاب کی بیماری ہے چلتے ہوئے یا پیشاب کرنے کے بعد پیشاب کے قطرے نکل جاتے ہیں کیا وہ ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں اگر پڑھ سکتا ہے تو حدیث کے حوالہ میں وضاحت فرمائیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی آدمی کو پیشاب کی بیماری ہے چلتے ہوئے یا پیشاب کرنے کے بعد پیشاب کے قطرے نکل جاتے ہیں کیا وہ ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں اگر پڑھ سکتا ہے تو حدیث کے حوالہ میں وضاحت فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اگر قطرہ پیشاب کبھی کبھار آتا ہے تو بدن یا کپڑے کی جس جگہ پر قطرہ لگا اس کو دھوئے وضوء کرے اور نماز پڑھے ۔ اور اگر قطرہ ہمیشہ آتا ہے کہ اس کے لیے ایک نماز باطہارت پڑھنا۔متعذر ہے تو وہ ہر نماز کے لیے وضوء کرے اور نماز پڑھے دلیل حدیث استحاضہ۔

’’استحاضہ وہ خون ہوتا ہے جو ایام حیض کے بعد خاکی یا زرد رنگ کا جاری ہوتا ہے یہ ایک مرض ہے جب عورت اپنے حیض کی عادت کے دن پورے کر کے پھر اسے غسل کر کے نماز شروع کر دینی چاہیے کیونکہ خون استحاضہ کا حکم خون حیض کے حکم سے مختلف ہے ۔

ہاں یہ بہت ضروری ہے کہ ہر نماز کے لیے نیا وضوء کرتی رہے رسول اللہﷺنے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا۔ ہر نماز کے لیے وضوء کر لیا کرو‘‘بخاری الوضوء۔باب غسل الدم حدیث228

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

طہارت کے مسائل ج1ص 90

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ