سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(23) مصافحہ بالتخصیص بعد نماز جمعہ یاعیدین کے غیر وقت ملاقات کے کرنا

  • 15078
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-06
  • مشاہدات : 349

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مصافحہ  بالتخصیص بعد  نماز  جمعہ  یاعیدین  کے غیر  وقت  ملاقات  کے کرنا  رسول اللہ صلعم  اور صحابہ  اور تابعین  اور تبع تابعین  اور ائمہ  مجتہدین  سے ثابت  ہے یا نہیں؟ اور اس کا کیا حکم ہے  اور محققین  حنفیہ نے اس کو کیا لکھا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مصافحہ  بالتخصیص بعد  نماز  جمعہ  یاعیدین  کے غیر  وقت  ملاقات  کے کرنا  رسول اللہ صلعم  اور صحابہ  اور تابعین  اور تبع تابعین  اور ائمہ  مجتہدین  سے ثابت  ہے یا نہیں؟ اور اس کا کیا حکم ہے  اور محققین  حنفیہ نے اس کو کیا لکھا ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مصافحہ  وقت لقاء  کے حضرت  صلعم  اور اصحاب  کرام سے ثابت  ہے ۔اور  بالتخصیص  بعد نماز  جمعہ اور عیدین  کے بدعت ہے ۔کسی حدیث  سے ثابت نہیں اور ائمہ  دین سے بھی منقول نہیں ۔جیسا کہ شیخ ابنا لحاج  نے مدخل لکھا  ہے 

وموضع  المصافحة في الشرع  انما هو عند  لقاء  مسلم   لاخيه  لا في  ادبار الصلوة  ‘ فحيث  وضعها  الشارع  لايضعها  فينهي  عن ذلك  وليزجر  فاعلم  لما اتي  به خلاف السنة‘ انتهي

اور شیخ احمد  بن علی رومی مجالس الابرار  میں فرماتے ہیں ۔

اما المصافحة في غير  حال  الملاتاة  مثل  كو نها  عقيب  صلوة  الجمعة  والعيد  كما هو  العارة  في زماننا فالحديث  سكت  عنه  فيلقي  بالدليل ّ وقد  تقرر في موضعه  ان مالا دليل  حليه  فهو مردود  لايجوز التقليد  فيه انتهي

اور شیخ عبدالحق نے  شرح مشکوۃ  میں لکھا ہے : آنکہ بعضے مردم  مصافحہ  می کنند  نعد از نماز  یا بعد  از  جمعہ  چیزے  نیست  'وبدعت  است  از جہت  تخصیص  وقت ۔

اسی طرح  ملا علی قادری  نے شر ح  مشکوۃ  میں '  اور ابن  عابدین  نے رد المختار میں لکھا ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ مولانا شمس الحق عظیم آبادی

ص155

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ