سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(15) وبائے طاعون کا ٹیکہ لگوانا محض حفاظت کے لیے

  • 15059
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 1639

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1۔ شرع  شریف  کا کیا حکم  ہے  انا کیولیشن  وبائے  طاعونی  کاٹیکہ  محض  حفاظت  جان  کے لیے مسلمانوں  کو لینا عند  الشرع  شریف کیا ناجائز ہے ؟

2۔ اور جس  نے ٹیکہ  لیا  وہ مسلمان کیا نہیں رہتا ؟

3۔کیا کسی  وبا یا مصیبت  کے ازالہ میں اپنے  اور اپنی  قوم کے لیے  کوشش  کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

4۔ کیا ظہور آثار  وعلامت  وبا میں بنظر  حفظ  صحت  نقل  مقام  چاہیے کہ نہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔صورت مستفسرہ میں ٹیکہ  وبائے  طاعونی  کا مسلمان لے  سکتا ہے  جب کہ  اس باب میں کوئی  ممانعت  شرعی نہیں ہے کیونکہ  جو  دوا ٹیکہ  کے ذریعے  سے پہنچائی جاتی ہے  اس میں کسی قسم کا کوئی نشہ  نہیں ہوتا اور  نہ بے ہوشی  ہوتی ہے  بلکہ  اس کے  فوری  اثر  سے طاعون  کی سمیت  یکلخت  دور ہوجاتی ہے  اور پھر  ٹیکہ  لینے والے پر طاعون  غالب  انشاء اللہ نہیں ہوتا ہے  اور اگر  منجملہ  ہزار  ہا آدمیوں  کے کسی  کے خون  میں طاعون  کی کچھ  سمیت  شاید  آبھی  جائے  تو کچھ  نقصان  نہیں پہنچتا جس طرح  چیچک  کا ٹیکہ  خاص  وعام  کے نزدیک  زیادہ  فائدہ  بخش  ہے  ویسا ہی  یہ ٹیکہ طاعونی  ہزار  ہا اشخاص  کی آزمائش  میں مفید  ثابت  ہوا  اور ثابت  ہوتا جاتا ہے  چنانچہ  میں نے عرصے  تک اس  طاعونی  ٹیکے  کے لینے  والوں  اور دیگر  وسائل  سے تقیق  کیا تو اس کے  فوائد  پر پورا اطمینان  ہوگیا اور کوئی  مانع  امر  شرعیہ  نہ پایا  لہذا اپنے  قومی  بھائیوں کے شک   رفع  کرنے کے لیے  میں نے خود طاعونی  ٹیکہ مروجہ  لیا تو بفضلہ  تعالیٰ میرے  تجربے میں  بہت فائدہ رساں پایا  گیا اس تیکہ  سے کسی  نوع  اور قسم  کی طاقت  زائل  یا کم  نہیں ہوتی  نہ  کوئی دوسرا مرض پیدا ہوتا ہے  نہ نشہ آتا  نہ کچھ  بے  ہوشی  ہوتی  جس  سے کسی  وقت کی  نماز فوت ہوجائے  جب  یہ موانع نہیں ہیں تو  کوئی قباحت  شرعی  ٹیکہ لینے میں مانع نہیں ۔ دوا کرنے اور علاج  کرانے کی کوئی ممانعت  حضرت شارع  صلعم  سے موجودہ  حالت میں پائی نہیں جاتی  ہے بلکہ  حضور ﷺ نے  خود دوائیں  ارشاد فرمائیں ہیں  اور یہ ٹیکہ  دوا ہے ۔

2۔ ٹیکہ  لینے  سے کفر (نافرمانی  شرعی ) ارتداد (مذہب  اسلام  سے پھر جانا ) عند  الشرع واقع  نہیں  ہوتا اور نہ ٹیکہ  لینے والا  فاسق وفاجر  یا مردود  اشہادۃ ہوتا جب  یہ حالت  ہے تو اس کے ایمان  واسلام میں  ذرہ  برابر  فرق نہیں ۔ وہ پختہ مسلمان ہے ،

3۔ ہر مسلمان بلکہ  انسان پر فرض ہے کہ  جب  قوم  یا وہ خود کسی ناگہانی  مصیبت  وبائیہ  بیماری میں پھنس  جائے یا مبتلا ہوجانے کا خطرہ  وخوف  ہو تو ایک دوسرے  کی جائز  اعانت  کرے اور مصیبت  وبائیہ  کے دفع  کے لیے  فوراً کوشش کرے ۔اللہ تعالیٰ  نے فرمایا ہے :

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾طاعون یا کسی وبا سے  بچنے  وبچانے  کی کوشش﴿  الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾میں داخل نہیں  ہے  بلکہ  مدد کرنے والا عنداللہ ماجور  ہوگا جبکہ جان کو خطرہ سے بچائے گا

4۔ جب  کسی مقام میں ظاہر ہوکہ وبا آچکی ہے  اوراس کے علامات  نمایاں  ہوچلے (عام  اس سے  کہ کوئی مبتلا  مرض  ہو یا نہ ہو)  اس سے بچنے کے لیے  عمدہ سامان  تدبیر  یہی ہے کہ  چندے وہ آبادی چھوڑ دی جائے اور کسی ایسے  جنگل یا ہوا دار مقام میں قیام کرے  جہاں آبادی نہ ہو اور  سمیت وبائیہ بھی  اس خطے میں نہ ہو   جب اصلی مسکن سے وبا جاتی رہے تو  واپس آجائے  اور جو غڑباء ایسے نقل ومکان کے مفلس ہوں  ان کی  حتی المقدور  اعانت  ہر قسم کی  کرے  اور ان کی اور اپنی  جان بچائے  کیونکہ  اللہ جل شانہ  نے﴿ وَأَنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾فرمایا  ہے کہ کسی  ایسے مہلکہ  سے جان  بچانا اور  امداد کرنا خدا کے محسنین  میں داخل ہوتا ہے  جو ہزار  ہا (موت  کا باعث) ہوتو  شرعا  جائز  نہیں ہے ۔ جنگل  میں آبادی  سے باہر  چلاجانا خلاف  شرع نہیں ۔ خدا اور رسول  ﷺ  نے جان  بچانے  کی تدبیر  کرنے کو منع  نہیں فرمایا ہے ۔  واللہ اعلم  خادم  قوم عبدالعزیز  رضوی  صمدنی عفی عنہ

  ہم  کو چاروں  جواب کے ساتھ  اتفااق ہے ، بے شک  یہ ٹیکہ  دوا ہے  اس کے ساتھ  کوئی اعتقاد  شرکیہ نہیں ہے ۔ پس  جس طرح  ساری ادویات  باذن  اللہ تعالیٰ تاثیر  پیدا کرتے ہیں ' ویسا ہی  یہ ٹیکہ  بھی ۔اور اس  میں  کسی قسم  کا محذور  شرعی  نہیں ہے ۔ پس ٹیکہ  لینے والا بے شک  وشبہ  مسلمان ہے اور   بے شک  مدد واعانت  مصیبت  زدہ  کی کرنا موجب  اجر کثیر  ہے ۔ جو اس کو خطا سمجھے  وہ  خاطی ہے ۔ اور حدیث  صحیح  الطاعون  شهادة شهادة لكل مسلم  کی یہ مطلب نہیں ہے کہ  اس کے  علاج  وتدبیر  ازالہ نہیں کی جائے  کیونکہ ہدم  وغرق  میں بھی  درجہ  شہادت  کا ملتا ہے ۔ پھر  بھی رسول اللہ ﷺ  اپنی دعا میں  اللهم اني اعوذبك  من الهدم  والغرق  وغير ذلك   فرمایا ہے '  اور جس  شہر  یا گاؤں  میں سمیت  وبائیہ  آگئی ہو۔ وہاں  سے دوسرے  شہر یا گاؤں  میں جانے کی ممانعت  آئی ہے ۔ اسی مصلحت  سے کہ دوسری جگہ  کے لوگ بھی  اس میں مبتلا ہوجاویں  گے باقی  رہا اسی شہر  یا گاؤں  میں رہ کر  صرف  حفظ کے واسطے  آبادی کو چھوڑ کر  میدان  ہودار  میں یا جنگل  میں جانا یہ داخل فرار نہیں  ہے ۔ کیونکہ  وہ شخص  کسی آباد ی  میں نہیں گیا ہے جہاں لوگ آباد ہیں ۔ پس اس اطلاق فرار کا نہیں ہوا ۔واللہ اعلم  حررہ  العبد الضعیف  ابو طیب  محمجد شمس الحق  عفی عنہ  العظیم  آبادی
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ مولانا شمس الحق عظیم آبادی

ص138

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ