سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(144)جعفی کا جابر سے سماع

  • 14930
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-30
  • مشاہدات : 434

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاحسین بن علی الجعفی کاعبدالرحمن بن یزیدبن جابرسےسماع ثابت ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاحسین بن علی الجعفی کاعبدالرحمن بن یزیدبن جابرسےسماع ثابت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جلیل القدرمحترم المقام برادرم وعزیزم میاں محمدعلی صاحب حفظہ اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

امیدہے کہ آپ بمع متعلقین بخیریت تام ہوں گے۔

امابعد!آپ کامکتوب ملابڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے یادکیاجس کےلیےآپ کاشکریہ!

آپ نےجوحدیث شریف لکھی ہے اس کےمتعلق یہ گذارش ہےکہ میں بھی ان محدثین ومحققین کے زمرہ میں شامل ہوں جواس حدیث مبارکہ کی تصیح کرتے ہیں۔باقی اس کے متعلق جوعلت بیان کی جاتی ہے وہ مرفوع ہے۔(الحمدللہ)تفصیل درج ذیل ملاحظہ کریں گے۔

علت کے متعلق آپ نے پہلاحوالہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب‘‘تاریخ الکبیر’’کادیاہےاس کے لیے گذارش ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عبارت اس طرح شروع کی ہے۔

‘‘ويقال هوالذى’’یعنی عبارت کے شروع میں صیغہ مجہول کولایاگیا ہے جوتمریض پردلالت کرتا ہے(یعنی اس طرح کہا گیا ہے)یعنی اس کا قائل (کہنے والا)نامعلوم ہے،لہذااس سےحجت لینادرست نہیں ہوگایہ رائے امام اعلی مقام کی اپنی ہوتی توبیشک اس کو اہمیت ووزن حاصل ہوتا لیکن یہ قول کسی دوسرے کا ہےجس کاقائل نامعلوم ہے باقی رہی‘‘تاریخ الصغیر’’کی عبارت تواس میں اہل الکوفۃ کے الفاظ ہیں۔

حسین  بن علی جعفی’’کانام صراحتامذکورنہیں ہےاور‘‘اہل کوفۃ’’کالفظ ابواسامہ(حمادبن اسامہ)پرصادق آتاہےاورابواسامہ واقعی عبدالرحمن بن یزیدبن جابرسے سماع نہیں کیاہےبلکہ عبدالرحمن بن یزیدبن تمیم سےاورابواسامہ کے عدم سماع سےیہ لازم نہیں آتاکہ حسین بن علی جعفی نے بھی ابن جابرسےنہ سناہو۔امام ابن القیم‘‘جلاء الافہام’’میں یہ لکھاہےکہ اکثریت ائمہ حدیث اس طرف گئےہیں کہ

ابواسامۃ عبدالرحمن بن یزیدبن جابرسےسماع نہیں کیا ہے بلکہ ابن تمیم سےکیا ہے۔

البتہ حسین بن علی جعفی نے دونوں سےسماع کیا ہے۔

(1):......امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ:

((سالت محمد بن عبدالرحمن بن أخی حسين الجعفى عن عبدالرحمن بن يزيد بن جابرفقال قدم الكوفة عبدالرحمن بن يزيدبن تميم و عبدالرحمن بن يزيدبن جابرذالك بدهروالذي يحدث عنه ابواسامة ليس هوابن جابرهوابن تميم.))

اس عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ ابواسامہ نے ابن جابرسےسماع نہیں کیاہےبلکہ ابن تمیم سےباقی حسین جفعی کی ابن جابرسے سماع کی نفی اس میں نہیں  ہے اورابن جابربھی(اس  عبارت سے معلوم ہواکہ)دومرتبہ کوفہ آئے تھےلہذاحسین جعفی کاسماع ممکن بلکہ قرین قیاس ہے۔

(2):......امام ابوبکربن ابی داودفرماتے ہیں کہ:

((سمع ابواسامة من ابن المبارك عن ابن جابروجميعا يحدثان عن مكحول وابن جابرايضادمشقى فلماقدم هذاقال ان عبدالرحمن بن يزيدالدمشقى حدث عن مكحول فظن ابواسامة انه ابن جابرالذى روى عنه ابن المبارك’وابن جابرثقه مامون يجمع حديثه وابن تميم ضعيف.))

اس عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ عبدالرحمن بن یزید کو ابن جابرسمجھنے میں غلطی ابواسامہ نےکی ہے نہ  کہ حسین جعفی نے کی ہے۔

(3):......امام ابوداودالسنن میں فرماتے ہیں کہ(ابن تمیم)متروک الحدیث ہے:

((حدث عنه ابواسامة وغلط فى إسمه قال حدثناعبدالرحمن بن يزيدبن جابرالشامى وكل ماجاءعن ابى أسامة عن عبدالرحمن بن يزيدفإنماهوابن تميم.))

امام ابوداودرحمۃ اللہ علیہ کی عبارت بھی صاف بتاررہی ہے کہ ابن جابرکے متعلق غلطی ابواسامہ سےہوئی ہے اورجب بھی عبدالرحمن بن یزیدسےروایت کرتا ہے تووہ ابن تمیم متروک ہی ہوتاہےلیکن امام ابوداودنے بھی غلطی کرنے والوں میں حسین جعفی کانام شامل نہیں کیا ہے۔

بہرحال ابن جابرسےسماع کاانکاراکثرائمہ حدیث نے ابواسامہ کے لیے کیا ہے۔

حسین جعفی کے لیے رجال کی کتب تہذیب التہذیب للحافظ ابن حجرؒوتہذیب الکمال للحافظ ابی الحجاج المزی میں عبدالرحمن بن یزیدبن جابرکے تلامذہ میں حسین بن علی جعفی کانام جزم کےساتھ استعمال کیا ہے اورحسین کے اساتذہ میں ابن جابرکا نام بھی ‘‘تہذیب الکمال’’للمزی میں موجود ہے ۔حافظ مزی عبدالرحمن بن یزیدبن جابرکے متعلق فرماتے ہیں:

((روى عنه حسين بن على الجعفى وابواسامة حمادبن أسامة إن كان محفوظا.))

اس  عبارت سے محفوظ ہوا کہ حافظ مزی حسین کی روایت ابن جابرکے متعلق جزم کےساتھ کہی ہے لیکن حمادبن اسامہ(ابواسامہ)کےمتعلق شک ظاہرکیا ہے ،اس لیے فرمایاکہ:

((إن كان محفوظا.))

اس طرح ابن القیم‘‘جلاءالأفهام’’میں امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ سےنقل کرتے ہیں  کہ انہوں نے ابوحاتم کی کتاب‘‘الضعفاء’’پرکلام کرتے ہوئے فرمایا:

((قوله حسين الجعفى روى عن عبدالرحمن بن يزيدابن جابروابواسامة يروى عن عبدالرحمن بن يزيدبن تميم فغلط فى إسم جده.))

اس سےمعلوم ہوا کہ ابن جابر سے حسین روایت کرتا ہے ،لیکن ابواسامہ ابن تمیم سےروایت کرتا ہے لیکن غلطی سےاس کےدادے کانام‘‘تمیم’’کےبجائے جابرلیاگیا ہے۔

یہاں پرایک اعتراض واردہوتا ہے کہ ابن ابی  حام کتاب العلل میں فرماتے ہیں کہ:

((سمعت ابي يقول عبدالرحمن بن يزيدبن جابرلااعلم احدامن اهل العراق يحدث عنه والذي عندي ان للذي يروي  عنه ابواسامة وحسين الجعفي واحدوهوعبدالرحمن بن يزيدبن تميم لان ابااسامة روي عن عبدالرحمن بن يزيدعن القاسم عن ابي امامة خمسةاحاديث اوستة احاديث منكرةلايحتمل ان يحدث عبدالرحمن بن يزيدبن جابرمشله ولااعلم احدامن اهل الشام روي ابن جابرمن هذه الاحديث شيئاواماحسين الجعفي فانه يروي عن عبدالرحمن بن يزيدبن جابرعن ابي الاشعث عن اوس بن اوس عن النبي صلي الله عليه وسلم في يوم المجمعة انه قال افضل الايام يوم المجمعة فيه الصعقة وفيه النفحه وفيه كذاوهوحديث منكرلااعلم احدارواه غيرالحسين الجفعفي وامام عبدالرحمن بن يزيدبن تميم فهوضعيف الحديث وعبدالرحمن بن يزيدبن جابرثقه ثم كلامه.......)) علل الحديث جلد١’صفحہ١٩٧.

اس  کاجواب یہ ہے کہ امام ابوحاتم نے حسین جعفی کی ابن جابرسےسماع کے انکارپرکوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کیا ہے جوپانچ چھ حدیثیں ذکرکی گئی ہیں وہ ابواسامہ کے واسطےسےنہیں آخراس میں حسین جعفی کاکیا قصور؟کرےکوئی بھرےکوئی یہ کہاں کاانصاف ہے؟

کیاحسین جعفی کااہل عراق میں سےہوناہی اس پر دلیل ہے کہ وہ ابن جابرسےروایت نہیں کرتا؟خودسوچیں کہ یہ توکوئی دلیل نہیں ہے ابواسامہ سےواقعتاکچھ غلطیاں ہوئی ہیں لیکن حسین جعفی کی اس قسم کی غلطی کسی نے بھی بیان نہیں کی ہے۔

حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ التقریب میں ابواسامہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

((وكان باخره يحدث من كتب غيره.))

یعنی آخرعمرمیں وہ دوسروں کی کتابوں سےحدیثیں بیان کرتا تھااوریہی سبب ہے کہ اس سےچندغلطیاں صادرہوئی اس کے برعکس حسین جعفی پرایساکوئی الزام نہیں ہےبلکہ حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ تہذیب التہذیب میں محمدبن عبدالرحمن الہروی سےنقل کیا ہےکہ:

((مارايت اتقن منه.)) التهذيب: صفحہ٣٠٨’جلد٢طبع نشرالسنة لاهور.

 

یعنی حسین جعفی سےبڑھ کرزیادہ متقن(مضبوط حافظہ والا)میں نے نہیں دیکھا۔

لہذاایسےمتقن اورثقہ راوی کےبارے میں بغیردلیل کہ سوءظن رکھناکہ وہ ابن جابراورابن تمیم کے درمیان فرق نہ کرسکابڑی بےانصافی ہے۔باقی ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ کہنا کہ ‘‘یہ حدیث(اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کی)منکرہےمیں نہیں مانتاکہ حسین الجعفی کے بغیرکسی نے اس روایت کوبیان کیا ہو۔’’

یہ بھی عجیب ہے کہ یہ حدیث منکرہے،کیونکہ دوسرے کسی نے یہ روایت نہیں کی ہے کسی دوسرے کا یہ روایت کرناکوئی نکارت کی علت نہیں بن سکتی ،امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح میں پہلی روایت(انماالاعمال بالنيات.)بھی سیدناعمررضی اللہ عنہ کے بغیرکسی دوسرے سےواردنہیں ہےاوران سےبھی صحیح سندکےساتھ روایت کرنے والاایک ہی راوی ہے۔جب کہ

اس سےبھی روایت کرنے والاایک ہے اس کے بعدنیچے جاکرکئی شاگردبنتے ہیں۔

کیایہ روایت اس لیےمنکرکہی جائے گی کہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ سےبیان کرنےوالااورپھران سےبیان کرنے والاایک ہی راوی ہے؟ہرگزنہیں!جب کہ حسین جعفی ثقہ اورمتقن حافظہ کامضبوط ہےاس کےاوپرجرح بھی ثابت نہیں ہے توایسے ثقہ کی روایت کو منکرقراردیناسراسرناانصافی ہے۔

علاوہ ازیں منکرقراردینے کاسبب یہ بھی ہوتا کہ حسین جعفی اس حدیث میں کسی اوثق(اپنے سےزیادہ ثقہ)کی مخالف کی ہو،لیکن ایسابھی نہیں ہےاورنہ ہی متن میں ایسی کوئی بات ہے جودوسری احادیث کے مخالف ہوبلکہ متن کے توکتنے ہی دوسرے صحیح شاہد موجودہیں۔جمعہ کےبارےمیں جوکچھ بیان ہےاس کی مئویدسیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہےجوکہ مسلم،ابوداود،ترمذی ،نسائی،ابن خزیمہ وغیرہم میں مذکورہےجومعنی کے اعتبارسےاس حدیث کے متفق ہے۔

اسی طرح انبیاءکرام علیہم السلام کےاجسام کومٹی وغیرہ نہیں کھاتی اس کے بھی شواہدموجودہیں اوراس کاشاہدوہ صحیح حدیث بھی ہے کہ آپﷺنے معراج کی رات دیکھاکہ موسی علیہ السلام قبرمیں نمازپڑھ  رہے ہیں قبرمیں نمازتب ہی پڑھی ہوگی ،جب ان کا جسم اطہرصحیح سلامت ہوگاحضرت موسی علیہ السلام اورنبی کریمﷺکے درمیان کتنا بڑاوقفہ ہے وہ ہرکوئی جانتا ہےلیکن اتنے طویل بلکہ اطول عرصہ کے بعدبھی ان کا جسم مبارک صحیح سالم تھابہرحال یہ حدیث صیح بھی اس حدیث مبارک کے اس ٹکڑے :

((إن الله حرم على الأرض.)) (الحديث)

کی مئویدہےاسی طرح آپﷺکےپاس امت کےدرودوسلام کاپہنچنابھی کتنی ہی احادیث صحیحہ میں موجود ہے جن میں یہ بیان ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کےفرشتےامت کی طرف سےبھیجےگئےصلوۃ وسلام کوپہنچاتے ہیں۔اب بتایاجائے کہ آخراس حدیث میں کون ساٹکڑامنکرہےجودوسری احادیث صحیحہ کی مخالف میں ہےجس کی وجہ سے اس کومنکرکہاجاتاہے۔جب سندکےتمام راوی ثقہ ہیں اورمتن کسی دوسرے صحیح متن کے مخالف ومنافی نہیں تب بھی اس کومنکرسمجھناماسوائے زوری اوردھاندلی کے اورکچھ نہیں ہے۔

امام ابوحاتم کا مقام ومرتبہ بلاشبہ بلندہے ہم اس کےعلم کےمقابلے میں جہلاکے قریب ہیں،تاہم جوبھی انسان اگرچہ وہ امامت کے مرتبہ پرفائز ہولیکن اس سےغلطی اورسہووخطابہرحال ممکن ہےبلکہ وقوع پذیرہے،لہذابلادلیل اورٹھوس ثبوت کے یہ کہناکہ یہ روایت منکرہے ہرگزقابل قبول نہیں ہےبلکہ مردودہے۔

خلاصہ کلام کے اس سند کے راوی حسین جعفی کااس روایت میں غلطی سےابن تمیم کوابن کہنے والی بات میں صرف امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ منفردہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ  علیہ نے اپنی رائےنہیں دی ہےبلکہ‘‘یقال’’کہہ کرکسی غیرمعلوم محدث کی طرف اشارہ کیا ہے۔ہوسکتا ہےکہ ان کا یہ اشارہ امام ابوحاتم کی طرف ہی ہولیکن چونکہ امام ابوحاتم الرازی کی یہ علت صحیح نہیں ہےاس لیے ان کانام لینےکے بجائے مجہول فعل استعمال کرکےاس علت کی تمریض کی طرف اشارہ کیا ہے۔واللہ اعلم

باقی دوسرے اکثرائمہ حدیث جن میں امام داراقطنی جیسے معتدل امام کابھی نام شامل ہےوہ عبدالرحمن بن یزیدبن جابرسےحسین بن علی الجعفی کے سماع کے قائل ہیں۔

علاوہ ازیں حسین جعفی کے سماع کےلیے یہ بھی زبردست دلیل وثبوت ہے کہ صحیح ابن حبان میں یہ حدیث مبارکہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ اس سندکے ساتھ لائے ہیں۔

((حدثناابن خزيمة حدثناابوكريب حدثناحسين بن على حدثناعبدالرحمن بن يزيدبن جابر......الخ.))

کہ اس سندمیں حسین جعفی ابن جابرسےسماع کی(حدثنا)کہہ کرتصریح کررہے ہیں۔’’

لہذاعدم سماع کاقول مردودہے ورنہ اگران کاسماع ابن جابرسےنہ ہوتاتوحدثناکہنےسےیہ سیدھاساداجھوٹ ہوا۔حالانکہ حسین جعفی نہ جھوٹانہ مجروح بلکہ ثقہ ،متقن اورپختہ عابدراوی ہے۔لہذا جب ایساپختہ راوی اپنی تصریح کرتا ہے توباقی سارے ظنون اوربے دلیل قیاسات،شکوک وشبہات ختم ہوجانے چاہئیں۔

جن لوگوں نے اس روایت میں یہ علت پیش کی ہے کہ امام علی بن المدینی حسین بن علی الجعفی سےروایت کرتا ہے وہ کہتا ہے :

((حدثناابن عبدالرحمن بن يزيدبن جابرسمعته يذكرعن ابى الاشعث الصنعانى عن اوس بن اوس الحديث.))

‘‘اوران کا کہنا ہے کہ ابن جابرابوالاشعث الصنعانی سےسماع کی تصریح نہیں کی ہے لیکن یہ علت بھی قادحہ نہیں ہے۔’’

کیونکہ کتب  رجال(التہذیب)وغیرہ میں ابن جابرکےاساتذہ میں ابوالاشعث الصنعانی کانام بھی ہے ۔اورعلی بن المدینی روایت سےزیادہ سےزیادہ یہ معلوم ہوا کہ ابن جابرابوالاشعث سےعنعنہ کیا ہے اورابن جابرمدلس بھی نہیں ہے۔لہذا اس کی عنعنہ بھی سماع پرمحمول ہے۔(كمالا يخفى على ممارس كتب اصول الحديث)

مزیدعلی بن المدینی کی روایت میں بھی حسین بن علی جعفی اس جابرسےتحدث کی تصریح کی ہے یعنی امام ابن المدینی بھی امام ابن خزیمہ سےحسین جعفی کی ابن جابرسےسماع کی تصریح میں متفق ہے۔فنعم الوفاق وجندالاتفاق اس سے بھی ثابت ہواکہ حسین جعفی کاسماع ابن جابرسےثابت ہے۔فالحمدلله على ذالك.

باقی انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں میں نماز پڑھنایازندہ ہونا۔یہ سارابرزخی معاملہ ہے اس کودنیاکےمعاملے پرقیاس نہیں کیاجاسکتا۔شہداءبھی توقرآنی نص کےمطابق زندہ ہیں لیکن دنیاوی زندگی ان کی بھی فی الحال ختم ہوچکی ہے۔اسی طرح انبیاء کرام کی بھی برزخی زندگی کوتصورکرناچاہئے۔

بہرحال وہ عالم برزخ کے معاملات ہیں ان پر جتناکتاب وسنت سےثابت ہے ویساایمان رکھنا ہے کمی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔قرآنی ارشادعالیہ ہے۔

﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۚ إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ‌ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَـٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًا﴾ (الاسراء:٣٦)

‘‘اورجس چیز کا تجھے علم نہ ہواس کے پیچھے مت پڑبلاشبہ کان،آنکھ اوردل ان سب کے بارے میں پوچھاجائےگا۔’’

بہرحال آپ کے سوال کاجواب راقم الحروف نے اپنے قصورعلم کے اعتراف کےباوجودجتنارب کریم نے سمجھایاعرض رکھ دیاہے۔اس سےبڑھ کرآپ ہی سوچیں کہ میں اس میں کتنا کامیاب ہوں۔

میرے لیے کوئی دوسری  خدمت ہوتوحاضر ہوں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 522

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC