سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(143)معانقہ کب؟

  • 14929
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-30
  • مشاہدات : 767

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاسفرسےلوٹنےکےعلاوہ دوسرےمواقع پرمعانقہ(گلےملنا)کیاجاسکتاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معانقہ کرناگلے ملنایہ انسان کاانسان سےمحبت کرنے کااوراس کااظہارہےکہ جومحبت وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے دل میں رکھتا ہے اوراپنے دوست سےملاقات کے وقت اظہارمسرت کاایک طریقہ ہے،یہ بالکل جائز ہےبلکہ مستحب اورثواب کاباعث ہے۔(ان شاءاللہ)اگرانسان کی اس سےنیت اپنے بھائی کی عزت وتکریم اورمحبت ہو۔

نبیﷺنےاس شخص کوفرمایاکہ جس نے آپ کوبتایاتھا کہ وہ فلاں سےمحبت کرتاہے،توآپ نے فرمایاتھا((هل أخبرته بذالك’فإن لم تكن قدأخبرته به فاذهب وأخبره))کیاتونےاسےبتایاکہ میں تجھ سےمحبت کرتاہوں اگرتونےابھی تک اسے نہیں بتایاتوجاواوراسےبتادو۔

اورمعانقہ اطلاع محبت کابہترین ذریعہ ہے،صحیح حدیث میں ہے:

((ذرونى ماتركتكم’مانهيتكم عنه فاجتنبوه وماأمرتكم به فأتومنه مااستطعتم’أوكماقال صلى الله عليه وسلم)) صحيح مسلم’سنن النسائى’كتاب الحج.

 ‘‘مجھےچھوڑدوجب تک میں تمہیں چھوڑےرکھوں،جس سےروکوں اس سے رک جاواورجس چیز کا حکم دوں اپنی طاقت کے مطابق اسے بجالاو۔’’

اورمعانقہ کرنااباحت اصلیہ کےتحت جائز ہے،کیونکہ نہ توشریعت نے اس سےروکاہےاورنہ کوئی سختی کی ہے تویہ مباح ہے۔

امام دارقطنی نے اپنی سنن اورابونعیم نے الحلیہ اورامام بیہقی نے سنن الکبری اورطبرانی نے معجم الکبیرمیں ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سےایک روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ تقریباایک جیسے ہیں۔رسول اللہﷺنے فرمایا:

((إن الله تعالى فرض فرائض فلاتضيعوهاوحدحدودا فلاتعتدوهاحرم أشياء فلاتنتهكوهاوسكت عن أشياء رحمة لكم غيرنسيان فلاتبحثواعنها))(هذاحديث حسن كمال قال النووى)

‘‘بےشک اللہ تعالی نے فرائض رکھے ہیں انہیں ضائع مت کرواورجواس نےحدیں مقررفرمائی ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرواورحرام اشیاء کی خلاف ورزی نہ کرواورجن اشیاء کاحکم بیان نہیں کیاگیاسکوت اختیارکیاگیاہے تویہ اس کی تم پررحمت ہے نہ کہ وہ بھول گیا ہے،ان کے بارے میں بحث میں نہ پڑو۔’’

تویہ سکوت عنہ عمل ہے ہمیں اس میں بحث سےگریزکرناچاہیےاوریہ مباح بلکہ مندوب ہے،اخلاص نیت سے۔

اورجوسفرسےواپس آئےتواس کےساتھ معانقہ کرنے کے ثبوت میں بہت سارےآثارواردہوتے ہیں لیکن مقیم کے بارہ میں اسی طرح کے آثارنہیں ملتے۔مسافرسفرسےآتاہےتواس کےساتھ معانقہ کی کوئی خاص علت نہیں بلکہ صرف اظہارمحبت ہوتاہےتویہی علت اصلیہ مقیم میں بھی موجودہے اورگزشتہ دوروایتیں بھی اس کی تائیدکرتی ہیں کہ مقیم سےمعانقہ کیاجاسکتاہے۔معجم الاوسط للطبرانی اورتحفہ الاحوذی شرح ترمذی میں ایک حدیث ہے کہ

((أن النبى صلى الله عليه وسلم أرسل إلى أبى ذر وكان خارجا من البيت فلماجاء أخبربرسالة النبى صلى الله عليه وسلم’قال ابوذرفلماجئت التزمنى النبى صلى الله عليه وسلم)) (الحديث)

‘‘نبیﷺنےابوذررضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجاآپ گھرسےباہرتھےجب واپس آئےتوگھروالوں نےنبیﷺکےپیغام کےبارہ میں بتایاتوابوذرفرماتے ہیں:میں آپﷺکےپاس آیاتوآپﷺنے مجھےاپنے سےچمٹالیا۔’’

اگرچہ ایک روای کے مبہم ہونے کی وجہ سےاس میں کچھ ضعف ہے،لیکن یہ ضعف یسیرہےجوشواہدسےدورہوجاتاہےاوردوسرےآثارجومیں بیان کرچکاہوں وہ اس کی تائیدکرتے ہیں۔

نیزترمذی اورابن ماجہ کی وہ روایت انس کہ جس میں ہے کہ ایک آدمی نے آپ سےسوال کیا کہ یارسول اللہ!جب ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یادوست سےملے توکیا اس کےلیے جھک سکتاہے؟فرمایا:نہیں:پھرپوچھا:کیااس سے چمٹ کراس کابوسہ لےسکتا ہے؟فرمایا:نہیں،پھرپوچھاکیاہاتھ پکڑکرمصافحہ کرے؟فرمایا؟ہاں۔’’

تویہ روایت حنظلہ بن عبداللہ السدوسی کے ضعف کی وجہ سےضعیف ہے اورائمہ جرح وتعدیل سےاس کی تضعیف ثابت ہے اورضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ یہ روایت آثارصحیحہ جوبیان کیےجاچکے ہیں ان کے بھی مخالف ہے،چلواگربالفرض اسےصحیح مان بھی لیاجائےتوہم اس کومقیم کے ساتھ معانقہ کرنےپرمحمول کریں گےکیونکہ مسافرکےساتھ معانقہ کرنایہ توصحیح سندوں سےثابت ہے۔

اگرچہ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ،لیکن امام ترمذی کاتساہل مشہورہےاوراس جیسی روایات سےاحتجاج پکڑناغلط ہے۔اس حدیث کے ضعیف ہونے سےیہ نہ سمجھ لیناچاہیےکہ کسی کے لیے بھی جھکناجائز ہے بلکہ دوسرے دلائل سےغیراللہ کے لیے جھکنا حرام قراردیا گیا ہے ،کیونکہ اس میں رکوع کی مشابہت آجاتی ہے اوررکوع اورسجودغیراللہ کے لیےجائزنہیں ہے۔

نوٹ:......ابوالقاسم عفی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک حدیث بیان کی جومسنداحمد میں اوربیہقی نے کتاب الادب میں ذکر کی ہے صحیح سند کے ساتھ کہ انس بن  مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

((أن رجلامن أهل البادية كان إسمه زاهربن حراء قال:وكان النبى صلى الله عليه وسلم يحبه وكان ذميمافأتاه النبى صلى الله عليه وسلم يوماوهويبيع متاعه فاحتضنه من خلفه وهولاينظر......))الخ

‘‘کہ ایک آدمی دیہاتیوں میں سےجس کانام زاہربن حراء تھاوہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام مجھ  سےبہت محبت کرتےتھےاورمیں غریب آدمی تھا،ایک مرتبہ آپ تشریف لائے زاہربازارمیں اپناسامان بیچ رہاتاتوآپﷺنےاسےپیچھےپکڑکرگلےسےلگالیا،زاہرنہ دیکھ سکےتووہ کہنےلگے:کون ہے؟پھراس نےپیچھےمڑکردیکھاتووہ نبیﷺتھےتوزاہراپنی پیٹھ کوآپ کےسینہ مبارک سےاچھی طرح ملادیاتوآپﷺآوازلگانےلگےاس غلام کوکون خریدےگا؟توزاہرکہنےلگےاےاللہ کےرسول!میں توایساشخص ہوں جس کی کوئی قیمت ہی نہیں لگائے گاتوآپﷺنے فرمایا:تواللہ کے ہاں بہت قیمتی ہے۔’’

اس حدیث میں نبیﷺنے اپنے صحابی کواپنے سینے سےچمٹایااوروہ صحابہ سفرسےنہیں آئے تھےبلکہ مقیم تھےاوریہی محل استشہادہےاورصحیح بخاری میں بھی ہے کہ نبیﷺنےابن عباس رضی اللہ عنہ کوسینےسےلگایااوران کے لیے دعافرمائی۔((اللهم علمه الكتاب))‘‘اے اللہ اسےقرآن کاعلم عطافرما۔’’

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 517

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ