سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(137)رسم ختنہ کی دعوت

  • 14923
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-30
  • مشاہدات : 689

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل رواج ہے کسی سرمایہ دارشخص کے بیٹے یاپوتےکی رسم طہر(ختنہ)ہوتاہےجس میں شادی کی طرح دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں غیرشرعی کام بھی شامل ہوتے ہیں،ایسی مجلسوں میں جانااوران کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں واضح ہوکہ جس شادی میں ڈھول بجایاجائے ،مغنیات گاناگانے والیاں گانے گاتی رہیں اورمختلف قسم کی رسومات اوربدعات اورفحش قسم کا عمل ہوایسی شادی یا محفل میں شرکت کرنااوران کی دعوت کوقبول کرناجائز نہیں ہے۔اللہ تعالی کا ارشادہے:

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدۃ:۲)

‘‘نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اورزیادتی کےکاموں میں ایک دوسرے کی  مدد نہ کرو۔’’

اسی طرح حدیث شریف میں ہے:

((عن عمران  بن حصين قال نهى رسول الله صلي الله عليه وسلم عن اجابة طعام الفاسقين.)) اخرجه للطبرانى فى الاوسط’جلد١’صفحہ١٣٨’رقم الحديث:٤٤١.ط:بيروت.

صحيح مسلم میں ایک روایت ہے:

 ((عن علی رضی الله عنه قال حدثنى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربع كلمات لعن الله من لعن والديه ولعن الله من ذبح لغيرالله ولعن الله من اوى محدثاولعن الله من غيرمنارالأرض.)) صحيح مسلم:كتاب الاضاحی’باب تحريم الذبح لغيرالله تعالى ولعن فاعله’رقم الحديث:٥١٢٤.

اسی طرح ایک اورروایت ہے:

((عن ابراهيم بن ميسرة مرسلا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من وقرصاحب بدعة فقداعان علي هدم الاسلام.)) البيهقى فى شعب الايمان’جلد٧’صفحہ٦١’رقم الحديث:٩٤٦٤ط:بيروت.

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 513

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ