سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(129)پاکستانی قانون کی شرعی حیثیت

  • 14915
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-29
  • مشاہدات : 911

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگرپاکستان میں زناکےمتعلق قانون شہادت کو عمل میں لایاجاتا ہے توکیااس سےزنابڑھ جائے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میرے محترم دوستو!آپ لوگ ان سوالات کی نوعیت پربھی توغورکرکیاایسے سوالات کسی عقل یاہوش وحواس رکھنے والے کے ہوسکتے ہیں؟

اس سوال کامطلب یہ ہوا کہ اگرچہ اس وقت پاکستان میں زنا کم ہے کیونکہ بڑھ جانایہ کسی چیز کی  فرع ہوتی ہے اس بات کی کہ پہلے یہ کم ہے لیکن اسلامی قانون شہادت کے عمل سےبڑھ جائے گا۔حالانکہ یہ بات مشاہدات اورواقعات کےبرخلاف ہے اس وقت زناکےمتعلق قانون شہادت ابھی عمل میں نہیں آیا ہے،تب بھی زنااوراس کےاسباب ومحرکات ہمارےملک میں پاکستان میں اس قدرزیادہ ہیں جوان کے تجربہ کے بعدزبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ کیا

یہ اسلامی ملک ہے ؟اسلامی معاشرہ یاسوسائٹی ہے؟ملحداوربےدین لوگ ایسی باتیں کرتےہیں جن کی وجہ سے زنااراس کےمحرکات واسباب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے مگرافسوس آج دیکھنے والوں کی آنکھیں دیکھنے سےمحروم ہیں،ان کی آنکھوں کے سامنے معاشرہ کابیڑہ غرق ہورہاہےمگران کوکچھ نظرنہیں آتااورپھراوپرسےیہ کہتے رہتے ہیں کہ اسلامی قانون شہادت عمل میں  آئے گاتوزنابڑھ جائے گا۔تف وہ ایسی سمجھ پر۔حیف ہوایسی بے ہودہ سوچ پر!دراصل ان کواسلامی تہذیب کی شناخت نہیں ہے اسلام جوکہ پاک سوسائٹی کی بنیادرکھنا چاہتا ہے اس کویہ لوگ جانتے تک  نہیں ہیں،اسلام نے جوزناکےقلع قمع کیلئے جوارشادات عالیہ دیئے ہیں ان سےیہ بھی عقل کے دشمن سراسرناواقف ہیں،اسلامی قانون شہادت کازناکے بڑھنے یاکم ہونےمیں کوئی حصہ نہیں ہے اس قانون کاایک مقصد ہے جوآگے بیان کیاجاتاہے۔(إن شاءاللہ)

زنا کے بڑھنے کے اسباب صرف یہ ہیں کہ اسلام جیساسماجی نظام وجودمیں لاناچاہتاہےاوراس کےلیے جواحکامات اوراوامرونواہی فرمائے ان پرعمل نہیں ہے۔اس حقیقت  کوخوب ذہن نشین کرلینا چاہیےکہ اسلام ہروقت ٹکٹکی تیارکرکے نہیں کھڑاہے کہ بس کوئی آئے اوراس پرچڑھ کراس کا خاتمہ کیاجائے،بلکہ جیساکہ کہاجاتاہے کہ‘‘آخرالدواءالكي’’یعنی داغناآخری دوائی ہے،جوصرف اس حالت میں عمل میں لائی جاتی ہے جب مرض کا علاج دوسری دوائی سےنہ ہورہا ہو۔ایسے نہیں ہے کہ جس کو سرمیں دردہواس کوداغ دیاجائے یا جس کو پیٹ میں دردہواس کوبھی داغ لگایاجائے ،بعینہ اسی طرح اسلامی حدودایک آخری چارہ کارہے۔اس سے پہلے مسلمانوں کا معاشرہ ہوگاتواول زناکابیچ ہی ختم ہوجائے گااس کے حدودکی ضرور ت ہی پیش نہیں آئے گی لیکن پھر بھی اگرایسے معاشرے کےباوجود بھی کوئی نالائق منہ نکالتاہے اورتمام پابندیوں کوتوڑکرنفس شیطان کابندہ ہوجاتا ہےاورایسی بدکاری کرتا ہے تواس کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ دوسرے ایسے نالائق لوگوں کےلیے سبق بن جائے۔

نبیﷺنےفرمایاکہ اگرکوئی مرداجنبیہ غیرمحرم  عورت کے ساتھ خلوت اختیارکرتا ہےتوتیسراان کےساتھ شیطان ہوتا ہے ،یعنی شیطان ضروران کے دلوں میں ناجائز خیالات ڈالےگااوروہی خیالات انسان کے ارادے کے اسباب بن جاتے ہیں اوراگرارادہ کیا توجاکربرائی کے گڑھے میں گرے گا۔لیکن یہ حضرات اگرجان بوجھ کریہی پرچارکرتے ہیں کہ عورتوں کو نکالوان کاپردہ چاک کروان کوکھلم کھلامیدانوں پرجلوہ افروزہونے دو۔یہی وجہ ہےکہ ہرتفریح گاہ جیساکہ میلے اورکلفٹن بازاریں وغیرہ آج کل بے پردہ عورتوں سےبھری ہوئی ہیں۔یہ لوگ ان کی بےپردگی کی حمایت کیوں کرتے ہیں،صرف اس لیے کہ ان کی حریص اورشہوت پرست آنکھوں کی ضیافت کاسامان میسرہواوران اچھی شکل وصورت والی حسین وجمیل عورتوں کودیکھ کران کی بےلغام آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ورنہ دوسروں کی عورت کو باہرنکالنے اوربے پردہ کرنے سے آخر ان کواورکیا حاصل ہوتا ہے؟جیسا کہ ہم اوپرذکرکرآئےہیں کہ حضورﷺنے کسی غیرمحرم عورت کے ساتھ خلوت اختیارکرنے سے منع فرمایا ہےمگرآج کل کے مغرب زدہ انسان کالجزاوریونیورسٹیزمیں مخلوط تعلیم کی کیوں حمایت کرکے اپنی بیٹیوں اورنورنظروں کوپروفیسروں اورشاگردوں کےساتھ اکیلےملاقات ومجلس کے لیے اوران کے ساتھ کندھاکندھے کےساتھ ملاکران نام نہادتعلیمی اداروں کےگندے ماحول میں خودجاکرچھوڑکرآتے ہیں۔

میرااپناچشم دیدواقعہ ہےکہ یونیورسٹیزمیں ایساماحول ہے جیساکہ ہندووں کی کتابوں میں ملتا ہےکہ سری کرشن پانی کے بیچ میں بیٹھاہےاورکتنی ہی گوپیاں اس کے ادگردکھڑی ہیں بعینہ ،اسی طرح پروفیسرصاحب کرشن کاروپ بناکے بیچ میں کرسی لگاکےبیٹھ جاتا ہےاوراس کے اردگردزرق وبرق لباس میں ملبوس اورپاوڈر اورلب اسٹک کی سرخی کامظاہرہ کرتےہوئے اوراپنے حسن کے بےپناہ ہتھیاروں سےلیس ہوکروہ نوجوان لڑکیاں اس پروفیسرکےاردگردگوپیوں کے روپ میں کرسیوں پربراجمان ہوتی ہیں۔خداراانصاف سے بتائیں ضمیرکی آوازکی طرف کان دےکرسنو،اس ہئیت اورکیفیت میں پروفیسرصاحبان کیاپڑھاتےہوں گےاوروہ طالبات کیاسبق حاصل کرتی ہوں گی،کیا یہ بھی میرے لکھنے کے متقاضی ہے؟اورپھرمیرایہ بھی تجربہ ہے کہ یہ پروفیسرمحض ان نوجوان لڑکیوں کےمنظورنظربننے کی خاطرامتحانوں میں زیادہ نمبردےدیتے ہیں حتی کہ کچھ لڑکے ڈبل یاٹرپل ایم ۔اے کررہے ہوتےہیں اوروہ یونیورسٹی‘‘حور’’ایم ۔اے کےپہلاامتحان دےرہی ہوتی ہے،پھربھی اس کواس لڑکے سےزیادہ نمبرملیں گےاوروہ لڑکاجس کوزیادہ نمبرملنے کا امکان ہوتا ہے اس کو کم نمبردیئے جاتے ہیں۔

راقم الحروف کی آنکھوں نے کیا کچھ دیکھا ہے یہ داستان بہت لمبی ہےجس کوبیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہےتوایسے ماحول میں اورایسے جذبات سفلیہ کو بھڑکانے والےحالات میں نوجوانوں میں زنا کے محرکات اوراس کی مائل کرنے کی باتیں پیدانہ ہوں گی توکیاوہ ابوبکراورعمررضی اللہ عنہماجیسے پاکبازانسان بنیں گے؟یہاں پراوربھی بہت کچھ لکھ سکتے ہیں،مگرسردست اسی پراکتفاکرتے ہیں۔

ب:......اسلام کاحکم ہے کہ کوئی غیر مردکسی غیر محرم عورت کی طرف نہ دیکھے،اسی طرح عورت کوبھی یہی حکم ہے کہ غیرمردسےاپنی نظر کو جھکائے(سورۃ النور)لیکن اس حکم  کی ہمارے ملک میں پاکستان میں جومٹی پلید کی جاتی ہے وہ کسی سےمخفی نہیں ہے۔

ج:......اسلام کایہ حکم ہے کہ دوسرے کےگھرمیں بغیراجازت اوربغیر سلام کیے ہوئےمت داخل ہو،(سورۃ النور)نبی کریمﷺکی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرکسی آدمی نےکسی دوسرے کے گھر کے سوراخ وغیرہ سےگھروالوں کی بےخبری کی حالت میں دیکھا اورگھروالوں کواس کاپتہ پڑگیااورانہوں نے کسی چیز سے اس کی آنکھ پھوڑدی توان پر کوئی دیت وغیرہ نہیں ہوگی۔

د:......اسلام کاحکم ہے کہ آپ کے خادم یاآپ کے چھوٹے بچے دوتین وقتوں میں اپنے والدین سےاجازت لےکرپھرآئیں۔(1)صبح کی نمازسےتھوڑاپہلے(2)دوپہرکےوقت جب گھروالے گرمی کی وجہ سے کپڑے وغیرہ اتارکرسورہے ہوں(3)عشاءکی نمازکےبعد(سورۃ النور)یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ اوقات خلوت کے ہوتے ہیں انسان اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ خلوت میں یا ایسے لباس میں ہوسکتا ہے جس میں ان کو دیکھناجائز اورمناسب نہیں،کیونکہ اگربچوں نے اس عمرمیں ایسی چیز کامشاہدہ کیا تووہ شہوانی خیالات کی طرف متوجہ ہوسکتے ہیں،لہذادین اسلام میں اتنی بھی اجازت نہیں ہےکہ چھوٹےبچے بھی اپنے والدین کے پاس ان اوقات میں بغیراجازت کے نہیں جاسکتے ۔آج اسی دین کےپیروکاروں کاکیا حال ہے۔ان کے گھرT.Vسےبھرے ہوئے ہیں۔جن سےکئی فحش ڈرامے،بیہودہ موسیقی اورانتہائی شرم ناک باتیں نشرہوتی ہیں۔اجنبی عورتوں کی صورتیں واضح طورپردیکھی جاتی ہیں،حالانکہ ان کوان عورتوں سےنظروں کوجھکانے کا حکم ہے،خداکےلیےان پرکچھ غورکریں جن گھروں میں ایسی فاحش مناظراوربےحیائی والی باتیں ہوں گی ان کی اخلاقی حالت کیا ہوگی؟ایسے گھرفحاشی کے اڈاے نہ بنیں گے توکیاپاکیزہ انسانوں والےماحول بنیں گے؟دل اورنفس اسی طرح نفسانی خواہشات مرداورعورت دونوں میں فطرتا رکھی ہوئی ہے،پھرایسے گھروں میں جب ایسے بے حیامناظرنشرہوں گے توکیاان شوق سےدیکھنے والوں  مردعورتوں کے دلوں میں سفلی جزبات کو بھڑکانے والے محرکات پیدانہیں ہوں  گے؟یہاں کچھ اوربھی زیادہ کچھ لکھنے کی ضرورت ہے لیکن کاغذکی تنگ دامنی اورمضمون کی طوالت سےبچنے کےلیےقلم کوروکناپڑرہا ہے۔

ھ:......اسلام جاندارچیزوں کی تصویرکشی سےسختی سےروکتا ہے ،اس سلسلے میں بے شماراحادیث تواترکے درجہ تک پہنچی ہوئی ہیں،تصویرکی ان بے اندازخرابیوں اوربرائیوں میں سےایک یہ بھی ہے اس فن کو اتنا فروغ دیا گیا ہے جو عورتوں کی چھپی تصویروں کوتوچھوڑو،برہنہ تصاویربھی راقم الحروف نے دیکھی ہیں،تم کسی بھی دکان پرجاوگے توتقریباہرچیزپرعورت کی تصویر نظرآئے گی خاص طورپرداراللباس پرجاوگے تووہاں عورت کابڑامجسمہ نظرآئے گا،ایساسب کچھ کیوں ہے؟

و:......گانابجانا،صحیح بخاری کی حدیث سےحرام وناجائز معلوم ہوتا ہے لیکن ہماری قوم کاکیا حال ہے جوگانے بجانے اورڈانس وغیرہ سےاس کوفراغت ہی نہیں ملتی،کیاگانے بجانےاورسازوغیرہ کےبرےنتائج سےہمارےسمجھدارلوگ عاجزہیں،میرے خیال میں گانابجانااوراس آوازوغیرہ سےانسان کے دل ودماغ پرایساخراب اثرپڑتاہےاوراس کی عقل پراتنانشہ چڑھا دیتاہےکہ اتنانشہ شراب بھی نہیں چڑھاتی،ایساسازسننے والاجس عورت سےوہ سازیاآوازسن رہاہوتاہےتواس کوایسے خیالات آتے ہیں ابھی ابھی اٹھ یاجاکراس بہترین آوازوالی عورت کو اپنی آغوش میں لے۔ہمارے سلف صالحین نے ایسے سازوالی آوازکوزناکامحرک یارقیۃ الزناتصورکیاہے۔اسی طرح کئی دوسری ایسی اشیاءوغیرہمارےملک میں بہت ہیں۔کیا وہ ساری اشیاء زنا کی محرکات میں سے نہیں ہیں اوربالفعل اس کےاضافہ میں بہت بڑارول ادانہیں کیا ہے؟کیایہ سینمائیں وغیرہ زناکے وجودمیں لانے کی کامیاب فیکٹریاں نہیں ہیں؟اگریقینا ہیں  جیساکہ یقینا ہیں بھی توپھروہ معترض حضرات بتائیں اتنے بڑے زنا کا طوفان بدتمیزی میں آخراسلام کا قانون شہادت کیا اضافہ کرےگا،آخر اس حالت میں اضافہ کی گنجائش کہاں ہے،پیمانہ پہلے ہی لبریز ہے ،اگرکچھ ڈالوگے توچھلک پڑے گا،باقی اس میں کیا اضافہ ہوگا؟آپ نرم مزاجی سےمیری گزارشات پرنظرڈالیں ،پھرسوچیں کیامیں نے جھوٹ لکھا ہے؟

بہرحال زنااوراس کےمحرکات کے اضافے کاسب سے بڑاسبب اسلامی قوانین کی پاسداری نہ کرنا اوراسلامی معاشرے کے لیے اللہ تعالی کی طرف سےدیے ہوئے احکامات  سےانحراف اوراوپربیان کیے ہوئے بے حیائی کے کاموں سےلگاورکھنے کی وجہ سےہے۔

اب میں اسلام کی زنا کے متعلق شہادت کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں ،اسلام نے جواحکامات ،سوسائٹی اورمعاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے دیئے ہیں ،ان پر اگرہم پوری طرح عزم واستقلال سے عمل کریں ،تونتیجتا ایک ایسا معاشرہ وجودمیں آئے گاجس میں زنا تودورکی بات ہے زنا کی بوبھی نہیں آئے گی اورنہ ہی اس تک پہنچنے کے اسباب ومحرکات ہوں گے،ایسے معاشرے میں اولازنا ہوگا ہی  نہیں،لیکن پھربھی اگرکوئی جنیت وبدباطن انسان جرات کرکے انتہائی براکام کرتا ہے تواسلام نے اس کے لیے نہایت ہی سخت اورعبرتناک سزاتجویزکی ہے،یعنی اگرغیرشادی شدہ کنوارہ ہےتواسے١٠٠سوکوڑے لگائے جائیں اوراگرشادی شدہ ہے تواس کو رجم(سنگسار)کرنے کا حکم ہے،اوراس کی سزاکے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہئےتاکہ سب کو اس سے عبرت حاصل ہو،مطلب کہ اسلام کے احکامات پر عمل کرنے سے اول توایسی برائی وجود میں ہی نہیں آئے گی اگراکادکاواقعہ ہوبھی گیاتواس کوسزابھی ایسی ملے گی جس سے دوسرے بھی سبق حاصل کریں گے اورایسی بے حیائی سےبازآئیں گے۔

اب جب کہ زنا کے لیے اتنی بڑی سزامجوزہ ہے تواس کے نفاذکے لیے گواہی بھی ایسی پکی ہونی ےچاہیے ،کیونکہ رجم(سنگسار)والاآدمی تویقیناختم ہوجائے گا،لیکن جس کو سوکوڑےلگیں گے وہ  بھی توبڑے خطرے میں ہے ،یعنی جان جانے کا بھی خطرہ ہے،لہذا انسانی حیاتی کومدنظررکھ کراس کی ثابتی کے لیے ایساسخت قانون شہادت مقررکیاگیا ہے ورنہ اگرایک دوآدمیوں کی گواہی کافی سمجھی جاتی توپھرکتنے ہی لوگ محض اپنی ذاتی دشمنی اورعنادکی بناپرکسی پرہیزگارآدمی کوبھی اس میں ملوث کرسکتے ہیں تاکہ اس کی  جان جوکھے میں چلی جائے ۔اسی طرح کئی بےگناہ بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں،اس لیے قانون شہادت کو سخت مقررکیاگیاہے۔اس صورت میں معاشرہ پاک ہونے کی وجہ سے اول توزنا کا وجود ہی نہیں ہوگا اگرکسی  سےکوئی غلطی سرزدہوگی گئی اوردوتین آدمیوں نے دیکھ بھی لیاہے لیکن چارگواہوں کا معاملہ پورانہیں ہواہے،لہذا ان لوگوں کوچاہیےکہ وہ اس کی پردہ پوشی کریں شاید وہ مردبھی شرمندہ ہوکراپنےکیے ہوئے گناہ پرازحد پشیمان ہواورسچے دل سے توبہ تائب ہواوراللہ تعالی اس کو معاف فرمادے۔بہرحال گواہوں کااندازہ پورانہیں ہےتوان کوپردہ پوشی کرنی چاہیےکیونکہ ایسے پاکیزہ معاشرہ جس کے اکثرلوگ اس کام سےدورہوتے ہیں،اس میں ایک دومثالوں سےکوئی نمایاں نقصان نہیں ہوتا۔اس لیے گواہوں کے نامکمل ہونے کے موقع پراس پرپردہ پوشی کرنا ہی بہترین طرزعمل ہے،نہ کہ ڈنڈھوراپیٹاجائے تاکہ جس کوپتہ نہیں ہے اس کوبھی پتہ چل جائے ۔اس طرح سےمسلم معاشرہ میں بے حیائی کی اشاعت ہوگی اورلوگ سوچیں گےکہ اس سوسائٹی میں بھی ایسے مردیاخواتین موجودہیں جن سے برائی کاکام پوراکروایاجاسکتاہے۔اس طرح یہ چیز اورزیادہ معاشرے کی خرابی کا باعث بن جائے گی ۔اورلوگ برائی کاسوچیں گے،اورپردہ پوش سےبرائی کی اتنی اشاعت نہیں ہوگی ،قرآن کریم میں بھی برائی کی اشاعت کے بارے میں سخت مذمت کی گئی ہے ،جس طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلْفَـٰحِشَةُ فِى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَ‌ةِ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النور:١٩)

یعنی‘‘بےشک وہ لوگ جوایمان والےلوگوں میں بےحیائی کی بات پھیلاناچاہتے ہیں ان کے لیے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے۔کیونکہ ان لوگوں کی بےحیائی کی بات کواشاعت کرنےسے جوخطرناک نتائج نکلیں گے یا تباہ کن اثرات پیداہوں گے ان کی سنگینی کاعلم اللہ تعالی ہی رکھتا ہے ،تمہیں اس کا کوئی علم نہیں۔’’

بہرحال بےحیائی جس طرح خودبےحدخراب اوربڑاگناہ کاکام ہے اس طرح ا س کی  اشاعت اورترویج بھی نہایت ہی خراب اورگناہ کاکام ہے۔نبیﷺکافرمان ہے:

((من سترمسلماستره الله فى الدنيا والآخرة)) (مسلم)

‘‘یعنی کوئی مسلمان دوسرےمسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے تواللہ تعالی دنیا اورآخرت میں اس  کی پردہ پوشی  کرےگا۔’’

مگریہ ساری باتیں وہاں کارگرثابت ہوں گی۔جہاں اسلامی معاشرہ قائم ہوگا۔باقی ہماراملک جس میں پہلے ہی بےحیائی کی فیکٹریاں اورکاخانے ہیں،اسلامی نظام والامعاشرہ ہی نہیں ہے بےحیائی کی باتیں عروج پر ہیں۔برائی کے محرکات چپے چپےپرقدم قدم پرسامنے آرہے ہیں،ایسے ماحول میں کوئی بھی اسلامی قانون کارآمدثابت نہیں ہوگااگرچہ اس کی تقاضا کےلیےسردھڑکی بازی لگائی جائے لہذاہمارے مسلمانوں کو سنجیدگی کے ساتھ سوچناچاہیےاورذہن میں رکھناچاہیےکہ کوئی بھی اسلامی قانون برائی کوپھیلانے اوراس میں اضافے کا باعث نہیں بن سکتا،بلکہ اسلام کے سارے قوانین نوراورروشنی رشدوہدایت کےراستے ہیں ۔ان پرعمل کرنے سے دنیا آخرت دونوں میں انسان سرخروہوسکتا ہےاوربرائی کانام ونشان نیست ونابودہوجائے گا،لیکن اگرہمارامعاشرہ ہی خراب ہوتوبجائے اسلامی قوانین پرنکتہ چینی کرنے کے اپنے معاشرے کی اصلاح کرنی چاہیےلیکن لوگ خواہ مخواہ پانی اندرونی خباثتوں کوظاہرکرنے کی خاطرلوگوں کے سامنے فضول اوربیہودہ سوالات اٹھاکرکوئی ان کی خدمت نہیں کررہے اورنہ ہی مجموعی طورپرانسانی بھلائی کا سامان اکٹھاکرتے ہیں محض اپنا منہ خراب کرتے ہوئے اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 483

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ