سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(125)ایڈوانس رقم کا حکم

  • 14911
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-29
  • مشاہدات : 946

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگرگندم کی کٹائی میں دویاتین ماہ لیٹ ہولیکن اس کی کٹائی سےپہلے آدھی قیمت لے کرمالک کسی کو گندم دینے کا وعدہ کرتا ہے تواس کا اسلامی شریعت میں کیا حکم ہے کیا یہ کام ان کا اس فرمان((لاتبع ماليس عندك.))کےمخالف تونہیں ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ معاملہ شرعابیع سلم کی صورت کا ہے جسے اہل حجازکی لغت میں بیع سلف کہتے ہیں اس کی صحت کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کایقینی طورپرلحاظ رکھناہے۔مثلاجوجنس فروخت ہورہی ہے اس کا مقرراورمعلوم ہوناکب وہ چیزاداکرےگایہ مدت مقررکرناقیمت اوروزن کاطے ہونااوراس جنس کی قیمت اورمقدارحساب کرکے اس کی قیمت اسی میں مجلس نقداداکرناوغیرہ جواحادیث سےمعلوم ہوتے ہیں۔

بلوغ المرام میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی کریم ﷺجب مدینے میں آئے توہم باغوں کے پھلوں کوبیع سلم کے طورپربیچتےتھےجس کی مدت سال یا دوسال یاتین سال مقررکرتے تھے۔آپﷺنے فرمایاکہ:

((فليسلف فى كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم.)) (متفق عليه)

‘‘یعنی بیع سلم کروتوناپ تول اورمدت ادائیگی مقررہونی چاہئے۔’’

ابوداود وغیرہ میں ہے کہ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ:

((إن كنا نسلف على عهدرسول الله صلى الله عليه وسلم وابى بكروعمرفى الحنطة والشعيروالتمرولازبيب.)) ابوداود’كتاب البيوع باب في السلف’رقم  الحديث:٣٤٦٣.

‘‘یعنی نبی اکرمﷺ کے عہدمبارک میں اورعہدصدیقی اورعہدفاروقی رجی اللہ عنہما میں ہم گندم کوجوکواورمنقی کھجورکی جنس میں بیع سلف کرتے تھےاوردوسری روایت میں  ہے کہ جن کوہم قیمت دیتے تھے ان کے پاس ہم ان جنسوں کونہیں دیکھاکرتے تھے۔’’

ان دلائل سےمعلوم ہوا کہ ضرورت مندلوگ مالداروں سےاورمالدارتاجریاسوداگرکسان یازمینداروں سے عہدنبوی میں اورعہدخلفاءراشدین میں بیع سلم عام طورپرکی جاتی تھی۔(ماخوذازاخبارتنظیم اہلحدیث14اکتوبر)

باقی الاعتصام میں مفتی صاحب کایہ کہنا کہ نہ لینے والالاچاریاعاجزہوکہ نہ لے تواس بات کوگومولانا حصاروی صاحب نے ردکیا ہے لیکن کسی حدتک مجھے یہ بات صحیح سمجھ میں آتی ہےہمارےملک میں ایسے بہت سے رواج ہیں مثلاکسی غریب کو پیسوں کی ضرورت ہے اوراس کے پاس زمین بھی ہے پھرخریدنے والے اس کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی خاطراسے مجبورکرتے ہیں کہ اتنی جنس لیں گے ہم سے بات کرپھر تمہیں پیسے دیں گے پھروہ مجبورہوکران   سے بات کرتا ہے وہ بھی چلنے والے ریٹ سے کافی کم یہ مجھے ظلم سمجھ میں  آتا ہے۔

یہ صورت نہ ہواورغریب کی لاچاری مجبوری سےناجائزفائدہ نہ اٹھاناہوتوپھریہ معاملہ صحیح ہے،البتہ قیمت پوری دینی چاہئے باقی((لاتبع ماليس عندك.))یہ جنس کے علاوہ دوسری چیزوں میں ہے اوریہ ابن سیرین کا قول ہے کہ اناج سٹوں میں ہوتونہ بیچوتویہ اس معاملہ (بیع سلم)سےدوسری صورت ہے یعنی بیع سلم میں ایسا نہیں ہوتاہے کہ اس فلاں زمین سےگندم تمہیں بیچ دیتا ہوں بلکہ محض پیسوں کے عوض جنس بیچ کے دینی ہے جو ایک مدت مقررپراداکی جائے گی پھریہ جنس وہ اپنی اس جنس کے اتارنے کے بعداس سے اداکرےیادوسری جگہ سےلےکردےوہ اس پرمدارہےلہذاوہ معاملہ ابن سیرین والے کہنے کے مخالف نہیں ہے۔یہ صحیح ہے کہ اناج سٹوں میں(اس کے طرف اشارہ کرکے)بیچانہ جائے گا۔

امیدہے کہ اس سے آپ کے سوال کا جواب کسی حدتک حل ہوچکاہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 478

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ