سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(122)سودی کے پیچھے نماز پڑھنا

  • 14908
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-29
  • مشاہدات : 621

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص جوسود کوجائزکہتا ہے(جس کا تذکرہ پہلے سوال میں کیا جاچکاہے۔)کیا اس کی اقتداءمیں نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہونا چاہئے کہ سودکی حرمت قطعی ہے اوراس پراجماع ہے۔لہذاجوشخص سودکوعمداہرحالت میں حلالا وجائز سمجھے گاوہ بلاشبہ کافرہے،پھرجوشخص کافر(اسلام سے خارج)ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا توسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔کمالایخفی

باقی مذکورہ صورت میں(یعنی بحالت اضطرارسودکے استعمال کوجائز سمجھنے والے)ایسےشخص کی اقتدامیں نمازجائز ہے کیونکہ مذکورہ شخص سودکوہرصورت میں جائز نہیں سمجھتابلکہ وہ شخص اضطراری صورت میں جائز سمجھتا ہے ۔چونکہ پہلے سوال کے جواب میں تفصیل کےساتھ عرض کیا گیا کہ سودبحالت اضطرارجائز ہے کیونکہ اضطراری حالت کو عام حکم سے مستثنی قراردیاگیا ہے۔لہذا ایسے شخص کوکافرنہیں کہاجائے گااوراس کے پیچھے بشرطیکہ صحیح العقیدہ ہونمازجائز ہے وہ شخص اس مسئلہ کی وجہ سے امامت سے خارج نہیں ہوسکتا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 470

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ