سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(105)دوران عدت کا نکاح

  • 14890
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-28
  • مشاہدات : 701

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمدفوت ہوگیا اس کی بیوی سکینہ نے عدت پوری ہونے سےقبل ہی بغیرولی کی اجازت کے دوسری جگہ نکاح کرلیا۔حالانکہ اس میں اس کا والد اللہ بخش بھی ناراض ہے،اب بتائیں کہ شریعت محمدی کے مطابق یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ نکاح ناجائز ہے اس میں دوشرطیں ہیں۔

(1)سکینہ کی عدت پوری ہونی چاہئے۔

(2)ولی یعنی(والد)راضی ہوناچاہئےجس طرح حدیث میں ہے:

((لانكاح إلابولى.))

اوردوسری روایت ہے:

((أيماإمرأة نكحت بغيرإذن وليهافنكاحهاباطل.)) أخرجه الاربعة الاالنسائى’وصححة ابوعوانه وابن حبان والحاكم.
‘‘دونوں شرائط کی عدم موجودگی کی وجہ سےنکاح باطل اورناجائزہوگا۔’’
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 448

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ