سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(92)چاچی بھتیجی اور ایک مرد

  • 14877
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-28
  • مشاہدات : 693

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کےبارےمیں شاہ محمداپنی بیوی کی بھتیجی سےشادی کرناچاہتا ہے کیا شریعت کے مطابق اس طرح کانکاح کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ نکاح نہیں ہوگاکسی بھی آدمی کے گھرمیں ،یعنی نکاح میں پھوپھی اوربھتیجی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں قرآن پاک میں ہے:

﴿حُرِّ‌مَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَـٰتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَ‌ٰتُكُمْ وَعَمَّـٰتُكُمْ وَخَـٰلَـٰتُكُمْ وَبَنَاتُ ٱلْأَخِ وَبَنَاتُ ٱلْأُخْتِ وَأُمَّهَـٰتُكُمُ ٱلَّـٰتِىٓ أَرْ‌ضَعْنَكُمْ وَأَخَوَ‌ٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّ‌ضَـٰعَةِ وَأُمَّهَـٰتُ نِسَآئِكُمْ وَرَ‌بَـٰٓئِبُكُمُ ٱلَّـٰتِى فِى حُجُورِ‌كُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّـٰتِى دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا۟ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَـٰٓئِلُ أَبْنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنْ أَصْلَـٰبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا۟ بَيْنَ ٱلْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورً‌ۭا رَّ‌حِيمًا﴾ (النساء:٢٣)

اس سے ثابت ہوئے کہ پھوپھی اوربھتیجی ایک ساتھ نکاح میں نہیں رہ سکتیں۔

حدیث پاک میں ہے:

((عن ابى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن تنكح المرأة على عمتهاولاالعمة على بنت أخيها.)) ابوداود’كتاب النكاح’باب مايكره أن يجمع بينهن من النساء’رقم  الحديث:٦٥ ٢٠.
‘‘سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے اس سےمنع کیا ہے کہ عورت اوراس کی خالہ کویاعورت اوراس کی پھوپھی کوجمع کیا جائے۔’’
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 434

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ