معلوم ہونا چاہئے کہ مذکورہ شخص زکوۃ فنڈ کی رقم سے شادی کرسکتا ہے کیونکہ مسکین زکوۃ کے مصارف میں سے ہے جس طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَـٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (التوبة:٦۰)
اس سےثابت ہواکہ زکوۃ مسکین کو دی جائے گی اورمسکین اس کو کہا جاتا ہے جس کےپاس کھانے کے لیے تھوڑی مقدرمیں ہو جس سےوہ کفایت نہ کرسکے اوراس کے پاس بچت رقم نہ ہولہذا اگریہ آدمی مسکین ہے توزکوۃسے اس کی امدادکی جاسکتی ہے۔