سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(65)لیلۃ القدر کے متعلق وضاحت

  • 14850
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-28
  • مشاہدات : 1349

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لیلۃ القدرکے متعلق وضاحت فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس کرہ ارض کو اللہ تعالی نے اس طرح بنایاہے کہ ہرعلاقے خاص طورپردوردرازکے علاقے ان کاوقت الگ الگ کیا ہے کہیں دن ہے توکہیں ابھی رات ہے،کہیں پر رات ختم ہونے والی ہوتی ہے توکہیں ابھی رات شروع ہورہی ہوتی ہے،بہرحال اسی اوقات کے اختلاف کی وجہ سے اسلامی عبادات وغیرہاکےاوقات ہرملک میں الگ الگ ہیں،مثلا ہمارے ملک میں ہمن عشاء پڑھ کرفارغ ہوتے ہیں ،توانگلینڈ میں ابھی عصر کا وقت ہوتا ہے کیونکہ وہاں پر سورج ہمارے ملک سے پانچ چھ گھنٹے بعدطلوع غروب ہوتا ہے لہذا پوری دنیا کے ملکوں میں ان عبادات کا ایک  وقت مقررکرنادرست نہیں ہےبلکہ ہرملک عبادت کے اوقات وہاں کے حساب سے مقررکیے جاتے ہیں،آپ کو معلوم ہوگا کہ عیدالاضحی سال میں صرف ایک مرتبہ ہوتی ہے لیکن سعودی عرب میں ہم سے ایک دودن پہلےہوتی ہے کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم عیدالاضحی کے اجروثواب سے محروم رہ جائیں گے؟ہرگزنہیں،اسی طرح خودرمضان المبارک بھی حجاز سےایک دودن بعدہمارے پاس آتا ہے ،توکیاہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابتدائی ایک دوروزے ہم سے رہ گئے ہیں یا وہ ہمارےپاس بالکل آتے ہی نہیں ہیں؟ہرگزاس طرح نہیں ہے۔اسلام جو کہ عالمگیرمذہب ہے ۔ساری دنیا کے لیےہے۔اس لیے رمضان المبارک کی باقی عبادات ہمارے ہاں ہمارے وقت کے مطابق عمل میں لائی جائیں گی۔صحیح حدیث میں ہے چاند دیکھ کر روزے رکھواورچانددیکھ کرروزے ختم کرو،لہذا ہمارے ہاں رمضان شروع تب ہوگا جب چاند نظرآئے گا،دوسرے ممالک میں چاہے پہلے نظرآئے یا بعدمیں وہ ان ملکوں کے وقت کا مدارہے،جہاں بھی چاند نظرآئے گاوہاں رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوجائے گا،لہذا ہرقدر کی رات بھی ہر ایک ملک کے لیےاس حساب سے آئے گی،جہاں ہم سے ایک دودن پہلے نظرآیاہے وہاں ہرقدررات ہم سے ایک دودن پہلے نظرآئے گی اورجہاں چاندبعدمیں نظرآئے گاوہاں قدرکی رات بھی اتنی ہی بعدہوگی۔یہ رات قدرکی سال میں ایک ہی رات کے برخلاف ہرگزنہیں ہے،یعنی قدرکی رات سال میں برابرایک ہی ہوتی ہے لیکن ہرملک میں اپنے اپنے وقت کےمطابق ہوگی،اگرسعودی عرب کے لیے شب قدرایک ہے توہمارے لیے بھی ایک ہی  ہے ،اسی طرح پوری دنیا کے لیے سال میں،ایک ہی رات ہے ۔اورہرسال میں ایک ہی رہےگی۔لیکن سورج کے طلوع وغروب کے اوقات مختلف ملکوں میں مختلف ہونے کی بناپراس کا(شب قدر)کاوقت بھی مختلف ہے ،اس طرح ہم توکیا ساری دنیا کے لوگ لیلۃ القدرکی خیروبرکت سے محروم  نہیں رہیں گے۔یہ اللہ رب العزت کا فیصلہ ہے ۔آپ سوچیں صرف لیلۃ القدرنہیں باقی عبادات کے اوقات بھی مختلف ملکوں میں مختلف وقت میں ہوتے ہیں۔مثلاعیدالفطر،یوم٩ذوالحجہ،عیدالاضحی خودرمضان المبارک سال کے ١٢مہینے بھی ہرجگہ پرایک ہی دن یا ایک ہی وقت پر نہیں ہوتے ۔مثلا:سعودیہ میں شروع سال کا ابتدائی مہینہ (محرم)شروع ہوجاتاہےلیکن ہمارے یہاں ابھی ذوالحجہ ہی چل رہاہوتا ہے کیا یہ واضح حقیقت نہیں ہے؟اللہ چونکہ رب العالمین ہے اس نے ہر ملک کے آدمیوں کو اپنی مہربانیوں اورفیضانہ  عنایات سےہرگزمحروم نہیں رکھاہے بلکہ ہرملک کے باشندے کو اس کو حاصل کرنے کا موقعہ فراہم کیا ہے جوکہ اس کے اپنے اوقات کے ساتھ منحصرہے۔اس مہربانی اورخیروبرکت کوحاصل کرنے کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے  صدائے عام ہے اگرکوئی اپنی ہی نالائقی کی وجہ سےان برکات سےمحروم ہوجاتا ہے تووہ اپنے گریبان میں خود جھانکے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 380

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ