سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(05)قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے وقف کاحکم

  • 14790
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-21
  • مشاہدات : 465

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن مجیدکی ہرآیت کےآخرمیں ایک گول نشان(0)درج ہوتاہےکیاوہاں پروقف کرنالازم ہےیاپھرمروجہ طریقہ یعنی‘‘لا۔ط۔م۔ک۔وغیرہ جنہیں رموزالقرآن کےنام سےموسوم کرتےہیں پروقف کیاجائے۔نیزوقف کی تفصیل واضح فرمائیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن مجیدکی ہرآیت کےآخرمیں ایک گول نشان(0)درج ہوتاہےکیاوہاں پروقف کرنالازم ہےیاپھرمروجہ طریقہ یعنی‘‘لا۔ط۔م۔ک۔وغیرہ جنہیں رموزالقرآن کےنام سےموسوم کرتےہیں پروقف کیاجائے۔نیزوقف کی تفصیل واضح فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

احادیث سےمعلوم ہوتاہےکہ  آیات کے اختتام پر گول نشانوں پر وقف کیاجائے جیسا کہ صحیح مسلم(کتاب الصلاۃ باب وجوب القراۃ الفاتحہ فی کل رکعۃ،رقم الحدیث٨٧٨)میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مروی حدیث میں ہے کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایاکہ:اللہ تعالی فرماتا ہے:

((قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين ولعبدي ماسال’فاذاالعبدالحمدلله رب العالمين’قال الله تعالي حمدني عبدي واذاقال الرحمن الرحيم قال الله تعالي اثني علي عبدي واذاقال مالك يوم الدين مجدني عبدي۔۔۔۔۔۔الخ))

ہرآیت کے آخر میں رب تعالی جواب دیتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ﴿ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ﴾کہہ کر کچھ وقف کیا جائے تاکہ اس کا جواب بھی ہوتا جائے۔علي هذا القياس .﴿ٱلرَّ‌حْمَـٰنِ ٱلرَّ‌حِيمِ﴾پھر﴿مَـٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ﴾اوراس کے بعد﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔۔۔۔۔۔الخ﴾اسی طرح احادیث میں یہ بھی بیان ہے کہ آپﷺآیت پڑھنے کے بعد کچھ توقف فرماتے تھے اورپھر دوسری آیت پڑھتے تھے۔

باقی رہا رموزالقرآن یا اوقاف وغیرہ کا ثبوت حدیث شریف میں نہیں ملتا۔

لہذا ان پر عمل کرنے کو لازم یا مندوب ومستحب قرارنہیں دیا جاسکتاالبتہ کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں پر کچھ الفاظ کو اگلے کے ساتھ ملاکرپڑھنے سے کچھ غلط معنی کا ابہام پیداہوتا ہے۔مثلا سورۃ النساء(آیت١١٧’١١٨)میں ہے:

﴿إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَـٰثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَـٰنًا مَّرِ‌يدًا ﴿١١٧﴾ لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُ‌وضًا﴾ (النساء:١١٧’١١٨)

‘‘اللہ کو چھوڑ کرپکارتے ہیں تو بتوں کو اورسرکش شیطان کو جس پر اللہ نے لعنت کی  ہے جس نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقررکرلوں گا۔’’

اس آیت میں ظاہر ہے کہ لعنه الله میں اللہ تعالی کی طرف سے شیطان پر لعنت بھیجی گئی ہے لیکن آگے‘‘وقال الخ’’شیطان کا مقولہ ہے اگر کوئی شخص لعنہ اللہ پر کچھ توقف نہ کرے بلکہ ملاکرپڑھتا جائے تو غلطی سے یہ ابہام ہوسکتا ہےکہ‘‘وقال کا قائل بھی نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ہے ’’جو کہ لعنه اللهمیں ہے اوریہ قطعا غلط ہے اوراسی طرح کچھ دیگر بھی  مقامات ہیں جن پر کچھ توقف کیا جائے تو بہتر ہے یعنی اس جگہ (مثلا)

‘‘لعنه الله’’پرکچھ توقف کرےپھر آگے پڑھا جائے مگر یہ محض قرآن کو واضح پڑھنے کے باب میں سے ہے جو﴿ورتل القرآن ترتیلا﴾میں داخل  سمجھا جائے گاباقی چونکہ اس کے متعلق قرآن وحدیث میں وضاحت کے ساتھ ان مقامات ومواضع پر وقف کا طریقہ موجود نہیں اس لیے اسے لازم قرارنہیں دیا جائے گایہ محض اپنی طرف سے ایک کوشش ہے جو انسان قرآن حکیم کے احترام اورآداب کے باب میں سمجھے ۔ان اوقاف پر عمل ہر شخص اپنے وسعت علم ےک موجب کرتاہے مگر اس پر عمل کرنے کو واجب یا ضروری قرارنہیں دیا جاسکتا کیونکہ قرآن وحدیث میں اس کے متعلق کچھ بھی واردنہیں ہوا۔

اس  آیت میں‘‘لعنه الله’’کے اوپرلکھاہوتاہے‘‘وقف لازم’’لیکن یہاں لزوم سےمراد شرعی نہیں ہے۔محض اپنی طرف سے آداب واحترام کا لحاظ ہے اسی طرح دیگر رموزالاوقاف کو بھی تصورکیا جائے یعنی وہ سب محض انسانی کوششیں ہیں۔چونکہ ان کے متعلق حدیث میں کچھ بھی وارد نہیں ہوا لہذا ان کو ضروری سمجھ کر ان پر عمل درآمد لازم سمجھنا درست نہیں۔باقی اگرکوئی ان کو غیر ضروری سمجھتا ہے لیکن پھر بھی ان رموز کے مطابق وقف کرتا ہےتواس پر کوئی گناہ نہیں مگر آیات کے اختتام پر گول نشان کے پاس تھوڑا ساتوقف کرنا چاہیئے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 72

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ