سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(140) پوتا چچا کی موجودگی میں دادا کی وراثت کا حقدار بن سکتا ہے؟

  • 14746
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 1646

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا دادا کی وراثت کا پوتا چچا کی موجودگی میں وارث بن سکتاہے؟ صورت اس طرح ہے کہ حاجی عبدالعزیز کی (گھلاوٹواں) میں زمین تھی۔ وہ سیم ہو گئی تو گورنمنٹ نے انعامی اسکیم نکالی اور حاجی عبدالعزیز کے لڑکے (حافظ محمد اسحٰق) نے تین درخواستیں دیں نمبر۱، اپنے باپ (حاجی عبدالعزیز) کی نمبر۲، اپنے بھتیجے (محمد زبیر ) کی نمبر۳ اپنی۔ اور جو درخواست منظور ہوئی وہ حاجی (عبدالعزیز) کی تھی تو حاجی صاحب کو لیہ میں زمین مل گئی ۔ وہ اس وقت زندہ تھے اور بعد میں فوت ہوئے۔ کیا س لیہ والی زمین جو کہ گورنمنٹ کی طرف سے انعامی اسکیم کے تحت ملی تھی ۔ اس کا حاجی صاحب کا پوتا محمد زبیراپنے چچا (حافظ محمد اسحاق) کی موجودگی میں وارث بن سکتاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چچا کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں بن سکتا ۔ اس کی دلیل جاننے سے پہلے یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ شریعت اسلامیہ نے جن رشتہ داروں کو اپنے میں سے کسی مرنے والے کا وارث ٹھہرایا ہے ، ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم وہ رشتہ دار ہیں جن کا حصہ قرآن و سنت میں معین کر دیا گیا ہے ۔ ان کو علم میراث کی اصطلاح میں اصحاب الفروض کہتے ہیں۔

            دوسرے وہ ورثاء جن کے حصوں کی تعین قرآن و سنت میں نہیں یعنی جو اصحاب الروض کی عدم موجودگی میں سارا مال لے لیتے ہیں۔ وہ اصحاب الفروض کی موجودگی میں ان سے بچا ہوا مال لیتے ہیں ان کو عصبات کہتے ہیں۔ بھائی اور پوتا بھی میت کے ان ورثاء میں سے ہیں جن کا حصہ معین نہیں ہے۔ تو عصبات میں مال کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ان اصحاب الفروض کو ان کے مقرر کردہ حصہ دے دینے کے بعد اگر ترکہ میں کچھ باقی ہے تو وہ عصبات کے ان مردوں کو دیا جائے گا جو میت کے زیادہ قریب ہوں اور دور کے تعلق رکھنے والے محروم رہیں گے۔ اس کی دلیل صحیحین کی حدیث ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں:

(( قال رسول الله صلى الله علسه وسلم  ألحقوا  الفرائض  بأهلها  فما بقى فهو  لأولى  رجل ذكر))

            ''کہ مقرر کردہ ان کے مستحقین کو دو اور جو باقی بچ جائے ، پس وہ اس آدمی کے لئے ہے جو میت کا زیادہ قریبی ہے۔'' (بخاری شریف مع فتح الباری ج۱۲، ص۱۲۔۱۷، صحیح مسلم شریف مع نووی ج۱۱، ص۵۳)

            رسول کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ اصحاب الفروض کے مقررہ حصے پورے کر دینے کے بعد جو باقی بچے وہ مرد عصبات میں سے سب سے قریبی کے لئے ہے کوئی دور والا اس کے ساتھ شریک نہیں ہوگا۔ امام نووی نے اس پر اجماع نقل کیاہے:

" و قد أجمع المسلمون  على أن ما بقى بعد  الفروض فهو  للعصبات  يقدم  الأقرب  فالأقرب فلا يرث  عاصب  بعيد  مع  و جود قريب-"

            ''مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو اصحاب و الفروض کو دینے کے بعد بچ جائے، وہ عصبات کے لئے ہے زیادہ قریبی کو مقدم کیا جائے گا، دور کا عصبہ رشتہ دار قریبی عصبہ کی موجودگی میں وارث نہیں بن سکتا۔''  (شرح نووی ، ج۱۱، ص۵۳)

            امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں با ب قائم کیا ہے باب میراث ابن الابن اذا لم یکن ابن آخر میں فرماتے ہیں:

(( ولا يرث  ولد الإبن مع الإبن ))

            ''کہ بیٹے کے ہوتے ہوئے بیٹے کی اولاد وارث نہیں بن سکتی (وہ اولاد میت کے کسی بھی زندہ یا فوت شدہ بیٹے کی ہو)۔''   (صحیح بخاری مع فتح الباری۱۲۔۱۷)

            مسئولہ صورت میں محمد زبیر کی نسبت حافظ محمد اسحاق میت سے زیادہ قریبی عزیز ہے ۔ اس لئے محمد اسحاق کے ہوتے ہوئے محمد زبیر کو اپنے دادا سے کچھ نہیں ملے گا۔ علم وراثت کا یہ قاعدہ بھی ہے کہ جب زیادہ عصبات جمع ہو جائیں اور وہ جس جہت سے میت کے وارث بن رہے ہوں، وہ جہت بھی ایک ہو اور درجہ میں اوپر نیچے ہوں جیسے میت کا پوتا اور بیٹا جمع ہو جائیں دونوں کی جہت ایک ہے کیونکہ پوتا کسی بھی بیٹے کی عدم موجودگی میں بیٹے کے حکم میں ہوتا ہے (یعنی جب میت کا کوئی بھی بیٹا نہ ہو تو پوتا بیٹے کے حکم میں ہوتا ہے تو اس صورت میں قریبی درجہ والے کو مقدم کیا جائے گا میت کا بیٹا درجہ میں پوتے سے زیادہ قریب ہے تو مال بیٹے کو ملے گا اور پوتا محروم ہو جائے گا)۔

            یاد رہے کہ وراثت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو مال کی صورت میں یا زمین کی صورت میں یا دیت وغیرہ کی صورت میں کوئی چھوڑ جاتا ہے ۔ وہ جائیداد میت کو کسی بھی طریقہ سے حاصل ہو۔ خواہ اپنے بڑوں سے وراثت پا کر وارث بنا ہو یا خود خرید کے مالک بنا ہو یا کہیں گورنمنٹ کی انعامی اسکیم حاصل کرکے مالک بنے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ