سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(134) گندم کا اسٹاک (STOCK)کرنا

  • 14740
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-16
  • مشاہدات : 1053

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر غلّہ منڈی میں گندم وافر مقدار میں موجود ہو تو کیا اس کا اسٹاک کیا جا سکتاہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل جواب دیں مہربانی ہو گی۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ذخیرہ اندوزی بہت بڑا گناہ ہے رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

((  لا يحتكر إلا خاطئ)) ( صحيح مسلم . كتاب البيوع )

            ''ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا مگر نا فرمان۔''(صحیح مسلم کتاب البیوع)

            ذخیرہ اندوزی کا مطلب مہنگا کرنے کے لئے کسی چیز کا ذخیرہ کرنا ہے۔ جس طرح آج کل کئی لوگ بازار سے کوئی جنس خرید کر اس کی قلت پیدا کر دیتے ہیں اور جب وہ چیز لوگوں کو نہیں ملتی تو قیمت بڑھا کر بازار میں لے آتے ہیں۔ اگر کوئی چیز بازار میں نایاب ہو یا کم ملتی ہو تو اسے ذخیرہ بنانا حرام ہے۔ اگر کوئی جنس بازار میں وافر مقدار میں موجود ہے اور ذخیرہ کرنے سے لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں تو ذخیرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  بنو نضیر کی کھجوروں میں سے اپنے اہل و عیال کے لئے ایک سال کا خرچ رکھ لیتے ۔ باقی فروخت کر دیتے۔ (صحیح بخاری، باب النفقات)   
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ